شهر الله المحرم باللغة الفلبينية

ANG BUWAN NG ALLAH “AL-MUHARRAM”

Ang buwan ng Muharram ay buwan ng Allah, ito ang unang buwan sa taon ng Hijri.

 

Ang buwan ng Muharram ay kasama sa sagradong buwan na nabanggit sa sinabi ng Allah سبحانه و تعالى:

“Ang bilang ng buwan sa Allah ay labindalawang buwan, ito ay nasa aklat ng Allah, mula sa araw ng pagkalikha ng mga langit at lupa, at dito ay nabibilang ang apat na sagradong buwan…”.

 

Ang mga sagradong buwan na nabanggit ay apat, at ito ay: Dhul-Qa’dah, Dhul-Hijjah, Al-Muharram, Rajab.

 

Katulad ng nilinaw ng Propeta Muhammad صلى الله عليه وسلم, nasabi na ito ay buwan ng Allah سبحانه وتعالى tanda na ang Muharram ay dakila at sagrado.

 

Ayon sa naiulat ni Abu Hurairahرضي الله عنه sinabi  ng Propeta Muhammad صلى الله عليه وسلم :

“Ang pinakamainam na pag-aayuno pagkatapos ng pag-aayuno sa Ramadhan ay ang pag-aayuno sa buwan ng Allah na Muharram; at ang pinakamainam na Salah pagkatapos ng limang obligado ay ang Salah sa gabi”.

 

Ang paggawa ng hindi makatarungan sa mga sagradong buwan na ito ay mahigpit na ipinagbabawal. Sinabi ng Allah سبحانه وتعالى:

“Huwag ninyong gawan ng hindi makatarungan ang inyong mga sarili sa loob ng mga sagradong buwan na ito”.

 

Walang duda na ang paggawa ng hindi makatarungan ay ipinagbabawal sa lahat ng oras, ngunit ang kasalanan na ito ay mas higit sa mga sagradong buwan na ito.

 

Ito ay naiulat ni Ibn Abbas رضي الله عنهما sa nabanggit na talata:

“Huwag kayong gumawa ng hindi makatarungan sa lahat ng buwan”.

 

At ihinuli ang apat na sagradong buwan bilang pagbibigay ng mas higit na babala; sapagkat ang pagsasagawa ng hindi makatarungang bagay sa mga buwan na ito ay mas malaking kasalanan; kasabay ay ang pagpapaliwanag naman sa pagsagawa ng kabutihan kung saan ay makakamit dito ang mas malaking gantimpala”.

 

Maituturing na mainam na kusang-loob na pagsamba ang pag-aayuno sa buwan ng Allah na Muharram; at ito ang susunod pagkatapos ng pag-aayuno sa buwan ng Ramadhan. Sa Hadith ng Propeta Muhammad صلى الله عليه و سلم ay kanyang sinabi:

“Ano ang susunod na mainam na dasal pagkatapos ng limang obligado? At ano ang susunod na mainam na pag-aayuno pagkatapos ng buwan ng Ramadhan?

 

Ang susunod na mainam na dasal pagkatapos ng limang obligado ay dasal sa gabi; at ang susunod na mainam na pag-aayuno pagkatapos ng Ramadhan ay ang pag-aayuno sa buwan ng Allah na Muharram”.

رسولوں پر ایمان

رسولوں پر ایمان

( اللہ تعالی نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی ایتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور خدا کی کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں  اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے  ) سورة ال عمران 164

رسولوں پر ایمان لانا ارکان ایمان میں سے ایک رکن ہے اور عقیدے کے اہم واجبات میں سے اہم واجب ہے  رسول اللہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں اور اس کی مخلوق پر حجت ہیں پس رسولوں کا بھیجنا مخلوق کیطرف اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے اور خاص کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ خاتم النبیین ہیں اور سب سے افضل  رسول ہیں رسولوں میں .

 رسولوں پر ایمان کا تقاضا ہے اس چیز کی تصدیق کرنا کہ اللہ تعالی نے ہر امت میں انہی میں سے رسول بھیجا جو ان کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت سے انکار کرتا ہے   یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ تمام سچے ہیں اور انہوں نے پہنچا دیا مکمل جو اللہ تعالی نے ان کے ذریعے بھیجا پس انہوں نے نہ چھپایا اور نہ تبدیل کیا اور اس چیز پر ایمان لانا کہ ان کی دعوت ایک ہے توحید کی دعوت  .

فرمان باری تعالی ہے : (اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو ) بعض مسائل و احکام میں وہ مختلف ہیں

اللہ تعالی کا فرمان ہے  : ( ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے  )

یہ عقیدہ رکھنا کہ جس نے ایک رسالت کا انکار کیا اس نے تمام کا انکار کر دیا فرمان باری ہے : ( قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا )  بس اللہ تعالی نے ان کےجھٹلانے کو تمام رسولوں کو جھٹلانا قرار دیا اگرچہ اس وقت ان کے علاوہ کوئی اور رسول نہیں تھا .

 ایمان لانا کہ اللہ تعالی نے انہیں حیرت انگیز معجزات سے نوازا اور واضح نشانیوں کے ساتھ .

اس چیز کی تصدیق کرنا کہ جو ان سے صحیح ثابت ہے اور ایمان لانا کہ ان میں سب سے اخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اپ کے بعد کوئی نبی نہیں ائے گا فرمان باری ہے  :  (محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں کی نبوت کی مہر یعنی اس کو ختم کر دینے والے ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے  . )

اس چیز کا عقیدہ رکھنا کہ ان کے منزلوں اور مرتبوں کے اندر تفاوت ہے اوران میں سب سے افضل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں رسولوں پر ایمان لانے کے بہترین ثمرات ہیں

اللہ تعالی کی رحمت اور اپنی مخلوق کے ساتھ عنایت کہ اس نے ان کی طرف رسولوں کو بھیجا ان کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے ,

 اللہ تعالی کی اس عظیم نعمت پر شکر ادا کرنا .  رسولوں سے محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا ان کی تعریف کرنا جس کے وہ لائق ہے کیونکہ وہ اللہ کے پیغام رساں ہیں اور اس کے بندوں میں سے چنے ہوئے بندے ہیں.

 اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اسکا  اپنی بعض مخلوقات کے انتخاب اور ایک دوسرے پر اس کی ترجیح کو جاننا ۔ اور بعض کو بعض پر فوقیت دینا .

اس چیز کو مضبوطی سے تھام لینا جو یہ ( رسول ) لے کر آئے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا اور آخرت کی سعادت تک پہچاتا ہے .

 

وجود باری تعالیٰ کے دلائل اور بندوں کی تخلیق کی حکمت

وجود باری تعالیٰ کے دلائل اور بندوں کی تخلیق کی حکمت

سوال: وجود باری تعالیٰ کی دلیل کیا ہے؟

اس کے بندوں کی تخلیق  میں کیا حکمت ہے؟

جہاں تک اللہ تعالیٰ کے وجود کے دلائل کا تعلق ہے، یہ غور کرنے والے لوگوں پر واضح ہے ۔اس کے لیے زیادہ تحقیق اور دور اندیشی کی ضرورت نہیں ہے۔

  غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وجود باری تعالیٰ کے دلائل کی تین اقسام ہیں۔

1- فطری دلائل

2- حسی دلائل

3-شرعی دلائل۔

1- فطری دلائل

جہاں تک فطری دلائل کا تعلق ہے، ہر انسان فطری طور پریہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا ایک رب اور خالق ہے بلکہ انسان اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔  اگر وہ بڑی مصیبت میں مبتلا ہوجائے تو اس کے ہاتھ اور آنکھیں اپنے رب سے مدد مانگنے کے لیے خود بخود آسمان کی طرف ہی اٹھتی ہیں۔

  اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فأقم وجهك للدين حنيفا  فطرة الله التي فطر الناس عليها.

 پس اپنا رخ دین کی طرف سیدھا کرو، اللہ تعالیٰ کی فطرت جس کے ساتھ اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔

2– حسی دلائل

حسی دلائل میں بہت سی چیزیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ جیساکہ کائناتی واقعات کا وجود ۔ ہمارے اردگرد دنیا میں  حوادث و واقعات رونما ہوتے ہیں  جن میں سے ایک اشیاء کی تخلیق ہے۔

تمام چیزیں جن میں درخت، پتھر، انسان، زمین، آسمان، سمندر اور دریا  وغیرہ انہیں کس نے بنایا، وجود دیا اور ان کی بقاء و صلاح کا بندوبست کیا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یا  تو یہ چیزیں بغیر کسی وجہ کے وجود میں آگئیں اور کیسے وجود میں آئیں اس کی حقیقت کوئی نہیں جانتا یا یہ خود بخود وجود میں آگئیں  

یا کوئی ذات ہے جس نے انہیں پیدا کیا اور سارا نظام قائم کیا۔ ان تینوں امکانات میں سے پہلا اور دوسرا ناممکن ہے۔ لہذا تیسرا صحیح اور واضح ہے کہ ان اشیاء و نظام کا ایک خالق ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔

 

  اور وہی ذات ہر شے کی صلاح و بقاء کی محافظ و منتظم ہے ، یہی بات قرآن کریم میں یوں بیان ہوئی

( أم خُلِقوا من غير شيء أم هم الخالقون ۔ أم خلقوا السماوات والأرض بل لا يوقنون. )

 یا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کیے گئے تھے، یا وہ خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔

3-شرعی دلائل۔

  جہاں تک شرعی دلائل کا تعلق ہے،اس حوالے سے   شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

ساری شریعتیں خالق کے وجود اور اس کے علم، حکمت اور رحمت کے کمال کی نشاندہی کرتی ہیں۔ کیونکہ ان شریعتوں کا ایک شارع ہوتا جوکہ اللہ تعالیٰ ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟

جواب: اس نے ہمیں اس لیے پیدا کیا ہے کہ اس کی عبادت کریں، اس کا شکر ادا کریں، اور اسے یاد کریں۔

اور اللہ تعالیٰ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کریں۔ یہ تخلیق ہر ایک کو صحیح راہ دکھانے کے بعد ہوئی۔ اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے :

 ( وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون )

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں۔