دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی، جو دیدار سے مانع ہو گی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا: ”دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی، جو دیدار سے مانع ہو گی“۔
Explanation
”جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی“ اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ یہ لوگ اللہ کو سب سے زیادہ قریب سے دیکھ سکیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ ان کو خوش کرنا چاہے گا اور ان کے شرف میں اضافہ کرنا چاہے گا، تو اپنے چہرے سے کبریائی کی چادر اٹھائے گا اور وہ اسے دیکھ سکیں گے۔
اہل سنت اللہ تعالیٰ کے لیے کبریائی کی چادر اور جنت میں مؤمنین کی اپنے رب کی رؤیت کو بغیر کسی کیفیت، نمونے اور بغیر کسی تحریف و تعطیل کے ثابت مانتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے شایانِ شان چہرے کو ثابت کرتے ہیں۔ اس میں کسی طرح کی تاویل کرنا اور اسے ظاہر سے پھیر کر دوسرا معنیٰ مُراد لینا جائز نہیں ہے۔ یہی سلف صالحین کا مذہب ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

