قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جس سے اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل آئيں گی اور وہ ان کے ساتھ ایسے گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں جانب گھومتا ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ان سے کہا گیا کہ آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے بات کیوں نہيں کرتے؟ لہذا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تمھیں سنا کر ہی بات کروں گا؟ اللہ کی قسم میں نے ان سے تنہائی میں بات کی ہے، تاکہ کسی طرح کے فساد کا دروازہ نہ کھلے۔ میں یہ بھی نہيں چاہتا کہ سب سے پہلے میں ہی فتنے کا دروازہ کھولوں۔ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہيں کہتا کہ جو شخص میرا حکمراں ہے، وہ سب لوگوں سے بہتر ہے : "قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جس سے اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل آئيں گی اور وہ ان کے ساتھ ایسے گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں جانب گھومتا ہے۔ ایسے میں سارے جہنمی اس کے پاس جمع ہو جائيں گے اور کہيں گے : اے فلاں! تیرے ساتھ ایسا کیسے ہوا؟ کیا ایسا نہيں ہے کہ تو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور برائی سے روکتا تھا؟ وہ جواب دے گا : یہ تو سچ ہے۔ مگر میں دوسروں کو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور خود اس پر عمل پیرا نہيں ہوتا تھا۔ دوسروں کو برائی سے روکتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔"
تشریح
اس کے بعد اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ امرا کو تنہائی میں نصیحت کرتے ہيں اور کسی کی چاپلوسی نہيں کرتے کہ منہ پر ان کی غلط تعریف کریں۔ چاہے امیر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ طرز عمل انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث سننے کے بعد اختیار کیا کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جہنم کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ گرنے کے ساتھ ہی اس کے پیٹ سے انتڑیاں نکل کر باہر آجائيں گی۔ ایسے میں وہ شخص اپنی انتڑیوں کے ساتھ ایسے چاروں طرف گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں طرف گھومتا ہے۔ یہ منظر دیکھ جہنمی اس کے اردگرد حلقہ بناکر جمع ہو جائيں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ اے فلاں! کیا تم ہمیں بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکا نہيں کرتے تھے؟
وہ جواب دے گا: یہ سچ ہے کہ میں تمھیں بھلائی کا حکم دیتا تھا، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ میں برائی سے روکتا تھا، لیکن خود اس میں ملوث ہو جایا کرتا تھا۔
فوائد
ایسے شخص کے لیے سخت وعید، جس کا قول اس کے فعل کے خلاف ہو۔
امرا کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور ان کو بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چاہیے۔
امرا کی مداہنت اور دل میں کچھ رکھنے اور ان کے سامنے کچھ اور کہنے کی مذمت۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

