میں نےجنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابن عباس اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”میں نےجنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں“۔
Explanation
حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر غریب کو ہر امیر پر فضیلت حاصل ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جنت میں غریب لوگ امیر لوگوں سے زیادہ ہیں اور اسی بات کی آپ ﷺ نےخبر دی ہے۔ ان کی غربت ان کے جنت میں جانے کا سبب نہیں اگرچہ اس کی وجہ سے ان کے حساب میں کچھ تخفیف ضرور ہو گی۔ اس کے بجائے وہ اپنی راستگی کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔ غریب آدمی اگر راست رو نہ ہو تو اسے کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔
اسی طرح نبی ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو اس میں زیادہ تر عورتیں نظر آئیں۔ کیونکہ عورتوں میں ایسی بری عادات ہوتی ہیں جن کا رنگ ان کی طبیعتوں پر حاوی ہو جاتا ہے اور وہ ان میں رچ بس جاتی ہیں۔ شوہر کی ناشکری اور کثرت کے ساتھ لعن طن کرنا انہی بری عادات میں سے ہے۔
اس لیے ان پر ضروری ہے کہ اپنے دین کی حفاظت کریں تاکہ جہنم سے محفوظ رہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

