میں سعید بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، تو انھوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس تارے کو دیکھا، جو کل رات ٹوٹا؟ میں نے کہا: میں نے دیکھا۔ پھر میں نے کہا: میں اس وقت نماز میں نہیں تھا؛ کیوں کہ مجھے کسی زہریلے جانور نے ڈس لیا تھا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ: میں سعید بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس تارے کو دیکھا جو کل رات ٹوٹا؟ میں نے کہا: میں نے دیکھا، پھر میں نے کہا: میں اس وقت نماز میں نہیں تھا کیونکہ میں (کسی زہریلے بچھو کے ذریعہ) ڈس لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: جھاڑ پھونک کیا۔ انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے اس بات پر ابھارا؟ میں نے کہا: شعبی کی بیان کردہ ایک حدیث نے۔ انہوں نے کہا: شعبی نے کیا بیان کیا؟ میں نے کہا: ہم سے انہوں نے بریدہ بن حُصیب سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: ”نظر بد اور زہریلے جانور کے کاٹ کھانے کے سوا اور کسی چیز پر جھاڑ پھونک صحیح نہیں“۔ انہوں نے کہا: جو کچھ تم نے سنا ٹھیک سنا۔ لیکن مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کردہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں میں نے ایک نبی کو دیکھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا (دس سے کم کا) گروہ تھا، کسی (اور) نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک یا دو امتی تھے، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا، آخر میرے سامنے ایک بڑی بھاری جماعت آئی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں، کیا یہ میری امت کے لوگ ہیں؟ مجھ سے کہا گیا کہ: یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی عظیم جماعت ہے، پھر مجھ سے کہا گیا : یہ آپ کی امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ پھر آپ اٹھے اور اپنے حجرہ میں تشریف لے گئے، لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے، اور کچھ لوگ کہنے لگے: شاید کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت پائی ہے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں جن کی ولادت اسلام میں ہوئی اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا۔ اور بہت سی باتیں لوگوں نے کہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم باہر تشریف لائے اور آپ کو اس بات کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، داغ کر علاج نہیں کرتے اور بد شگونی و فال نہیں لیتے بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے انہیں میں کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں میں سے ہو۔ پھر ایک دوسرے صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا : آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے انہیں میں کردے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : عکاشہ تم سے بازی لے گئے“۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

