جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔"
Explanation
1- اللہ کو اپنا رب تسلیم کر کے مطمئن ہو۔ یعنی اپنے رب کی عطا کی ہوئی تمام چیزوں، جیسے روزی اور زندگی کے نشیب و فراز کو پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کرے، اس تعلق سے دل میں کوئی کبیدگی اور اعتراض نہ پائے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کو رب بنانے کی کوشش نہ کرے۔
2- اسلام کو اپنا دین تسلیم کر کے مطمئن ہو اور اسلام کی عائد کردہ ذمے داریوں اور واجبات کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرے اور اسلام کے راستے کو چھوڑ کوئی اور راستہ نہ ڈھونڈے۔
3- محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو رسول مان کر مطمئن ہو۔ آپ کی لائی ہوئی تمام تعلیمات کو سر آنکھوں پر رکھے۔ شک و شبہ کو دل میں راہ پانے کا موقع نہ دے اور آپ کے طریقے کو حرز جاں سمجھے۔
Benefits
جس طرح جسم کھانے پینے کی جیزوں کی حلاوت تندرستی کی حالت میں ہی محسوس کرتا ہے، اسی طرح دل بھی گمراہ کن خواہشات اور حرام شہوتوں سے محفوظ ہونے کی صورت میں ہی ایمان کی حلاوت محسوس کرتا ہے۔ بیمار دل ایمان کی حلاوت محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ کبھی کبھی تو اسے ہلاکت خیز خواہشات اور گناہ کے کاموں ہی میں مزہ آنے لگتا ہے۔
جب انسان کسی چيز سے مطمئن ہو اور اسے بہتر جانے، تو اسے وہ چيز مشکل نہيں لگتی، بلکہ اس کے لئے آسان ہو جاتی ہے اور خوشیوں کی سوغات نظر آتی ہے۔ یہی حال مومن کا ہے۔ جب اس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو جاتا ہے، تو اس کے لیے رب کے احکام کو بجا لانا آسان ہو جاتا ہے، رب کی بندگی میں مزہ آنے لگتا ہے اور اس راہ میں آنے والی پریشانیاں مشکل نہيں لگتیں۔
ابن قیم کہتے ہیں: اس حدیث کے اندر اللہ کی ربوبیت والوہیت پر مطمئن رہنے، اس کے رسول اور رسول کی پیروی پر مطمئن رہنے‘ اس کے دین پر مطمئن رہنے اور دین کی تعلیمات کو سر آنکھوں پر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

