تم میں سے جو شخص منکر (غلط کام ) دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے اور اسے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے جو شخص منکر (غلط کام ) دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے اور اسے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔
Explanation
Benefits
منکر سے روکنے کےسلسلے میں درجہ بندی کو ملحوظ خاطر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر انسان اپنی استطاعت وقدرت کے حساب سے اس کام کو انجام دے۔
منکر سے روکنا ایک بہت بڑی دینی ذمے داری ہے، جو کسى سے بھى ساقط نہیں ہوتی ہے۔ ہر شخص کو اپنی طاقت کے مطابق اس ذمے داری کو ادا کرنا ہے۔
بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایمان کی ایک خصلت ہے اور ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔
منکر سے روکنے کے لیے شرط ہے کہ اس عمل کے منکر ہونے کا علم ہو۔
منکر کو بدلنے کے لیے شرط ہے کہ اس کے نتیجے میں اس سے بڑا کوئی منکر وجود میں نہ آئے۔
منکر سے روکنے کے کچھ آداب اور شروط ہیں جن سے مسلمان کو آگاہ اور واقف ہونا چاہیے۔
منکر کی نکیر کرنے کے لیے شریعت کے اسرار ورموز سے واقفیت اور علم وبصیرت ضروری ہے۔
دل سے منکر کی نکیر نہ کرنا ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

