HadeethEnc · 1.36.0
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔
02
Explanation
”وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِه“ اس میں آپ ﷺ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں، اس لیے کہ تمام لوگوں کی جانیں اس کے ہاتھ میں ہیں، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے، جسے چاہتا ہے مارتا ہے اور جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے، لہٰذا لوگوں کی جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، ہدایت و گمراہی، زندہ کرنا و مارنا اور ہر چیز میں تصرف اور اس کی تدبیر کرنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ (سورۃ الشمس: 7، 8) ”قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی، پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی“۔ تمام جانیں اللہ کے اختیار میں ہیں، اسی وجہ سے اللہ کے نبی ﷺ قسم اٹھا رہے ہیں، آپ اکثر ’”وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِه“ کی قسم اٹھاتے تھے، اور کبھی اس طرح فرماتے ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ سب سے پاکیزہ جان ہے۔ اس لئے آپ سب سے پاکیزہ اور اطیب جان کی قسم کھا رہے ہیں۔
پھر جس چیز کی قسم اٹھا رہے ہیں اس کا ذکر فرمایا اور وہ یہ ہے کہ ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قائم کریں ورنہ اللہ ہم پر اپنا عذاب بھیج دے گا اور ہماری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔
پھر جس چیز کی قسم اٹھا رہے ہیں اس کا ذکر فرمایا اور وہ یہ ہے کہ ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قائم کریں ورنہ اللہ ہم پر اپنا عذاب بھیج دے گا اور ہماری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔
Attribution
[اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

