مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کے لیے ان کی امت میں سے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کے لیے ان کی امت میں سے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے، جو ایسی باتیں کہتے، جو وہ کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ کام تھے جن کا انھیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ لہذا جس نے ان سے ہاتھ سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے، جس نے ان سے دل سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے اور جس نے ان سے اپنی زبان سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے اور ان کے علاوہ باقی لوگوں کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔"
Explanation
Benefits
برائی (منکر) کو دل سے برا نہ جاننا ایمان کی کمزوری یا ختم ہو جانے کی دلیل ہے۔
اللہ پاک اپنے انبیائے کرام کے لیے ایسے لوگ فراہم کر دیتا ہے، جو ان کے بعد ان کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتے ہیں۔
جسے نجات چاہیے، وہ انبیا کے منہج کی اتباع کرے۔ کیوں کہ ان کے راستے کے علاوہ ہر راستہ گمراہی و ہلاکت کا راستہ ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ جس قدر دور ہوتا جائے گا، اسی قدر لوگ سنتوں کو ترک کرتے چلے جائیں گے، خواہشات نفس کے پیروکار بنتے جائیں گے اور بدعتیں ایجاد کرنے لگیں گے۔
جہاد کے مراتب کا بیان۔ ساتھ ہی یہ کہ اگر حالات بدلنے کی طاقت ہو، تو جہاد ہاتھ سے ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں اولیاء الامور، حکام اور امرا آتے ہیں۔ قول کے ذریعے جہاد سے مراد حق بیانی سے کام لینا اور اس کی دعوت دینا ہے۔ جبکہ قلبی جہاد سے مراد غلط کو غلط سمجھنا، اسے پسند نہ کرنا اور اس سے راضی نہ رہنا ہے۔
بھلائی (معروف) کا حکم دینے اور برائی (منکر) سے روکنے کا وجوب۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

