HadeethEnc · 1.36.0
(بغرض سفر) نبی ﷺ کا پاؤں رکاب میں تھا کہ ایک شخص نے پوچھا کہ (یا رسول اللہ!) کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا“۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
متن حدیث
طارق ابن شہاب بجلی احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (بغرضِ سفر) نبی ﷺ کا پاؤں رکاب میں تھا کہ ایک شخص نے پوچھا کہ (اے اللہ کے رسول ﷺ!) کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا۔
02
تشریح
نبی ﷺ سفر کے لیے تیار تھے کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے سوال کیا: کس جہاد کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی ﷺ نے اسے بتایا کہ افضل ترین جہاد یہ ہے کہ آدمی کسی ظالم بادشاہ کو نیکی کی تلقین کرے اور اسے برائی سے منع کرے۔ جہاد صرف کفار کےساتھ قتال تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی مراتب ہیں جن میں سے مذکورہ جہاد کا ثواب سب سے زیادہ ہے کیونکہ اس میں بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے قتل یا قید ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو اس قسم کا جہاد کرتے ہیں۔
Attribution
[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
زمرے
شیئر کریں
حدیث شیئر کریں
Sharing options
2مشاہدات0کارڈز0شیئرز

