’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘
Explanation
Benefits
عورت کی کمزوری اور کمی کا بیان کہ وہ عمومی ولایتوں میں مرد کی شریک نہیں ہوسکتی، اور اس کا اس طرح کے منصب پر فائز ہونا نا کامی ونا مرادی کا سبب ہے۔
اللہ نے عورت کو پیدا فرمایا اور اس کی فطرت کو مرد کی فطرت سے مختلف بنایا ہے۔ چنانچہ کچھ امور ایسے ہیں جنہیں عورت کا انجام دینا اس کی مخصوص فطرت کے باعث مناسب نہیں، ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں مرد کا انجام دینا اس کی مخصوص فطرت کے باعث مناسب نہیں ہے۔
منفی فلاح: فلاح شریعت کی اصطلاح میں دنیا وآخرت کی خیر وبھلائی کا حصول ہے، سلطنت کی خوشحالی سے یہ لازم نہیں آتا کہ قوم اللہ کی رضامندی پر ہو، جو شخص اللہ کی اطاعت میں نہیں، تو وہ فلاح پانے والوں میں سے نہیں ہے، اگرچہ وہ بظاہر اپنے دنیاوی معاملات میں بظاہر بہترین حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔
اس حدیث میں عورت کی تنقیص نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی صلاحیتوں کی صحیح اور مناسب توجیہ ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

