ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ (امارت) امانت ہے، قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہوگی، سوائے اُس شخص کے، جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس نے متعلقہ ذمہ داری جو اُس پر عائد ہوئی تھی اسے (اچھی طرح) ادا کیا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ذر رضی الله عنہ سے روایت ہےکہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا:”ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ (امارت) امانت ہے، قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہوگی، سوائے اس شخص کے، جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس نے متعلقہ ذمہ داری جو اس پر عائد ہوئی تھی اسے (اچھی طرح) ادا کیا“۔
Explanation
یہ حدیث حکومتی ذمہ داریوں کو لینے سے اجتناب کرنے کے بارے میں ایک بنیاد ہے خاص طور پر اس شخص کے لیے جس میں اس حکومتی ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں کمزوری پائی جائے۔ جہاں تک اُس رسوائی اور ندامت کا تعلق ہے جس کا حدیث میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قیامت کے روز رسوائی اور ندامت کے سوا کچھ نہ ہو گی“۔ تو یہ اس شخص کے حق میں ہے جو اس حکومتی ذمہ داری کا اہل نہ ہو۔ یا پھر اہل تو ہو لیکن وہ اس میں انصاف نہ کرے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالی قیامت کے دن ذلیل اور رسوا کر دے گا اور وہ اپنی کوتاہی پر نادم ہو گا۔ جب کہ وہ شخص جو حکومتی ذمہ داری کا اہل ہو اور وہ اس میں انصاف بھی کرے تو یہ وعید اُس پر صادق نہیں آئے گی۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے استثناء کرتے ہوئے فرمایا: ”ماسوا اس شخص کے جس نے اس کا اہل ہونے کی وجہ سے اسے لیا اور اس کے بارے میں اس پر جو ذمہ داری عائد ہوتی تھی اسے پورا کیا“۔ کیونکہ جو اس کا اہل ہو اس کی بہت فضیلت ہے جس کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ: ”سات لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنے سایہ میں جگہ دے گا“ (جس میں انصاف کرنے والا حاکم بھی ہے)۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ: ”عدل کرنے والے نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے“۔ وغیرہ۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

