”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے، تو تو بھی اس پر سختی فرما- اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر ان کے ساتھ نرمی کرے، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے اس گھر میں فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے، تو تو بھی اس پر سختی فرما- اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر ان کے ساتھ نرمی کرے، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔
Explanation
جب کہ ذمے داری ملنے کے بعد لوگوں کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرنے والے اور ان کے ساتھ آسانی کرنے والے کے حق میں یہ دعا کی ہے کہ اللہ اس کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرے اور اس کا کام آسان کر دے۔
Benefits
اللہ بندے کو جزا اسی نوعیت کی دیتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل رہا ہوتا ہے۔
نرمی اور سختی کی کسوٹی قرآن اور حدیث ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

