افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#6334[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ کہنے لگی کہ میرے اندر بڑے بڑے سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: اے دوزخ! تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ کہنے لگی: میرے اندر بڑے بڑے سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: اے دوزخ! تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا“۔
02

Explanation

نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جنت اور دوزخ نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے سے جھگڑا کیا۔ یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنی فضیلت اور برتری کے دلائل پیش کیے۔ ان میں سے ہر ایک کا دعوی تھا کہ وہ دوسری سے برتر ہے۔ یہ سب کچھ غیبی امور سے تعلق رکھتا ہے جس پر ایمان لانا ہم پر واجب ہے اگرچہ عقل انہیں بعید ہی کیوں نہ جانے۔ جنت نے دوزخ کے خلاف دلیل دیتے ہوئے کہا کہ میرے اندر کمزور اور فقیر قسم کے لوگ آئیں گے۔ یہ عموما وہ لوگ ہوتے جو حق کے معاملے میں نرم خو اور اس کے تابع ہوتے ہیں۔ دوزخ نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سرکش یعنی سخت اور درشت مزاج اور متکبر قسم کے لوگ یعنی اپنی بڑائی اور برتری جتلانے والے آئیں گے جو لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حق کو جھٹلاتے ہیں۔چنانچہ سرکشی اور تکبر سے متصف لوگ دوزخی ہوں گے۔ العیاذ باللہ کیونکہ ایسے لوگ عموما حق کے پیرو نہیں بنتے۔ اللہ تعالی نے جنت و دوزخ کے مابین فیصلہ کرتے ہوئے دوزخ سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے جس کے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تیرے ذریعے سے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔یعنی جنت ایک ایسا مقام ہے جس کا وجود اللہ کی رحمت کا مرہون منت ہے۔ اس کا یہ مفہوم ہر گز نہیں کہ جنت وہ رحمت ہے جو اللہ کی صفت ہے کیونکہ اللہ کی رحمت تو اس کے ساتھ قائم ایک صفت ہے۔ اس حدیث میں جس رحمت کا ذکر ہے وہ مخلوق ہے۔ ”تو میری رحمت ہے“ سے مراد یہ ہے کہ میں نے اپنی رحمت کی بدولت تجھے پیدا کیا ہےاور تیرے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ جنت والے اللہ کی رحمت کے مستحقین ہوں گے اور دوزخ والے اللہ کے عذاب سے دوچار ہونے والے لوگ ہوں گے۔

Attribution

[معنی کے لحاظ سے یہ حدیث متفق علیہ ہے۔]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...