اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اس کے بارے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو، تو یہ آیت پڑھو : ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ ”کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، وہ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔“
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو تو یہ آیت پڑھو: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ ”کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، وہ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے“۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی ایک مجلس میں موجود تھا۔ اس میں جنت کا ذکر ہوا۔ جب آپ ﷺ گفتگو پوری فرما چکے، تو آخر میں فرمایا: اس میں وہ کچھ ہے، جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی اس کا خیال ہی کسی آدمی کے دل پر گزرا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے آیت‘ ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ سے لے کر اللہ تعالی کے فرمان:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ تک تلاوت فرمائی۔
Explanation
”ولا خَطر على قَلب بَشر“ یعنی ان کے لیے جنت میں جو دائمی نعمتیں تیار ہیں،ان کا خیال تک کسی کے دل پرسے نہیں گزرا۔ہر وہ شے جس کا خیال انسان کے دل میں آتا ہے،جنت میں اس سے بہتر ان کے لیے موجود ہے۔کیوںکہ، انسان کے دل پر صرف انہی اشیا کا خیال آتا ہے،جنھیں وہ جانتے ہیں اور ان کے خیال کے قریب وہی اشیا آتی ہیں،جن کی وہ پہچان رکھتے ہیں۔جب کہ جنت کی نعمتیں ان سے کہیں برتر ہیں۔یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ان کے لیے بطور تکریم ہوگا۔کیوںکہ انھوں نے اللہ کے احکامات کی بجاآوری کی ہوگی،اس کی حرام کردہ باتوں سے اجتناب برتا ہوگا اور اس کے راستے میں مشقت برداشت کی ہوگی۔ چنانچہ بدلہ عمل ہی کی جنس سے سے ملے گا۔
”واقْرَؤُوا إن شِئْتُمْ“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ:پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
﴿فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ﴾اس میں تمام نفوس شامل ہیں۔ کیوںکہ سیاق نفی میں نکرہ عموم کا معنی دیتا ہے۔یعنی کسی کو یہ معلوم نہیں کہ:﴿مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ یعنی ان کے لیے کیسی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرح وسرور اور لذت و خوشی رکھی ہوئی ہے۔جس طرح انھوں نے راتوں کو نماز پڑھی، دعائیں کیں اور اپنے اعمال کو مخفی رکھا،اسی طرح اللہ نے بھی انھیں ان کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا۔بایں طور کہ ان کے اجر کو مخفی رکھا۔اسی لیے فرمایا: ﴿جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾وہ جو کچھ کرتے تھے، یہ اس کا بدلہ ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

