RULING FOR NATURAL BLOOD REGARDING WOMEN

RULING FOR NATURAL BLOOD REGARDING WOMEN

الدماء للمراة

Confusing questions that women frequently ask about the
types of blood which they emit. Should you stop praying, or
do you wash and pray?

The default ruling of blood that is emitted by a woman is that
it is menstrual blood, with no limit to its amount or frequency,
and no limit to the age [of the woman]. However, if it occurs
without a specific time or any estimated time and it does not
cease, except for a little, then she is considered as being
mustahaadah (i.e., a woman experiencing abnormal
vaginal bleeding outside of menstrual and postnatal
bleeding). Regarding this type of woman, the Prophet
commanded her to stay within her normal menstruation
cycle. If she does not have a regular menstruation cycle,
then she should try and distinguish it. If she is unable to
distinguish it, then she should look at the majority of the
women as a whole, which is six or seven days. And Allah
knows best.

1. Menstruation (Al hayd): It’s the default. There is no limit on
its age nor its amount nor its continuity.

2. Postnatal bleeding (Al nefas): It’s the bleeding that exits
from a woman: when giving birth, prebirth or after birth. The
ruling is the same as me menstruation.

3. Irregular bleeding (Al istihadah): It’s the blood that remains
with a woman or doesn’t stop except slightly. The woman

Bawo ni mo şe ma wo inu esin Islam

Bawo ni mo şe ma wo inu esin Islam

(Bawo ni mo ṣe ma wọ inu ẹsin Islam): Awọn iwe imọ to tẹlerawọn lati ọwọ Dọkita Haitham Sarhan, o sọ awọn idajọ sharia pataki ni irisi ibeere ati idahun.
Ninu abala eleyi, o sọrọ lori wiwọnu ẹsin Islam, atipe bawo ni eniyan ṣe le di Musulumi? Kini o yẹ ki o ṣe lẹyin ti o ba ti wọnu Islam tan? Ati awọn ohun pataki ti Musulumi titun nilo lati kọ ẹkọ Islam diẹdiẹ.

Постановления, СВЯЗАННЫЕ С ЕСТЕСТВЕННЫМ КРОВОТЕЧЕНИЕМ У ЖЕНЩИНЫ

Постановления, СВЯЗАННЫЕ С ЕСТЕСТВЕННЫМ КРОВОТЕЧЕНИЕМ У ЖЕНЩИНЫ

Постановления, СВЯЗАННЫЕ
С ЕСТЕСТВЕННЫМ
КРОВОТЕЧЕНИЕМ У ЖЕНЩИНЫ

Проблемные вопросы, часто задаваемые женщиной в отношении кровяных выделений. Стоит ли ей  оставлять молитву из-за этого или совершить полное омовение и молиться?

احكام الدماء الطبيعية للمرآة

اللغة الروسية

ماہ شوا ل  

ماہِ شوال

ماہِ شوال

رمضان المبارک کے بعد شوال کا مہینہ اطاعت کو دوام بخشنے کا ایک عظیم دروازہ ہے۔

جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ عمر بھر کے روزے رکھنے کے برابر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: جس نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے تو اس ایک مہینہ کا ثواب دس مہینوں کے برابر ہے اور رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے پورے سال کے روزے رکھے ہوں۔

اسی طرح یہ فرض روزے میں نقص کی تلافی کرتا ہے۔ جب قیامت کے دن حساب کتاب ہوگا تو فرض روزوں میں جو کمی واقع ہوئی ہے وہ اِن نوافل سے پوری ہوجائے گی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔

شوال کے چھ روزے ماہِ شوال کے دوسرے دن سے رکھنا جائز ہے۔ کیونکہ عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔

شوال کے چھ روزے پورے مہینے میں کبھی بھی رکھ سکتا ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ رکھنے میں جلدی کرے۔

اور شوال میں لگاتار یا ناغہ کر کے روزہ رکھا جا سکتا ہے، اس معاملے میں وسعت ہے۔

اور جس شخص پر رمضان کے روزوں کی قضا ہو تو اسے چاہیے کہ شوال کے مہینے میں اس فرض کو ادا کرنے میں جلدی کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس پر آنے والے دنوں میں کیا گزرے گی۔

اور شوال کے چھ روزوں سے پہلے قضاء شروع کر دے تاکہ رمضان کے روزے شوال کے چھ روزوں کے ساتھ رکھ سکے۔

رمضان کی قضاء کو شوال کے چھ روزوں کے ساتھ ایک ہی نیت سے جمع کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ رمضان کا روزہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ جبکہ شوال کے چھ روزوں کے ساتھ ایام بیض کے تین روزے جمع کرنا درست ہے۔

شوال میں شادی کرنا جائز ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا كہتى ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں مجھ سے نکاح کیا اور شوال میں مجھ سے بنا کیا۔

اس لیے رمضان، شوال اور دیگر تمام دنوں میں عبادات کو یقینی بنائیں۔

حسن بصری کہتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے مومن کے عمل کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے سوائے موت کے۔

 

ماہِذیقعدہ کیخصوصیات

ماہِ ذی قعدہ کی خصوصیات

اللہ تعالیٰ نے بعض مہینوں کو بعض پر فضیلت دی ہے۔

انہیں فضیلت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ذی قعدہ  بھی ہے۔

یہ ہجری سال کا گیارہواں مہینہ ہے۔

اس کا نام ذی قعدہ اس لیے رکھا گیا کہ عرب اس مہینے کے احترام ،  اور ذی الحجہ میں حج کی تیاری کی وجہ سے لڑائی سے دور رہتے تھے۔

اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ مقدس مہینوں کا آغاز ہے۔

عرب لوگ حج پر جانے والے لوگوں کی سلامتی کے لیے جنگ و جدال کی ممانعت کرتے تھے۔

پھر اسلام آیا اور اس کی حرمت اور اس میں لڑائی شروع کرنے کی حرمت کو مزید بڑھا دیا۔

اور اس میں ظلم کی ممانعت اس حکم کی تعظیم اور اس میں گناہوں کو سخت کرنے کے لئے ہے۔

حالانکہ دیگر مہینوں میں بھی ظلم حرام ہے۔

اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ حج کی نیت صرف اسی مہینے میں کی جاتی ہے۔

اس کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے چاروں عمرے اسی ماہ میں کئے۔

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ عمرہ کیا، وہ سب ذی قعدہ میں تھے، سوائے اس عمرہ کے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا تھا۔

امام نووی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمرہ صرف ذی قعدہ میں اس مہینے کی فضیلت اور اس ماہ میں جاہلی رسوم کی مخالفت کے لیے کیا تھا۔

کیونکہ وہ حرمت والے مہینوں میں عمرہ کو صریح بے حیائی سمجھتے تھے۔