اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھ کو اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ چنانچہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے سامنے نکاح کے لیے پیش نہ کرو۔
ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میری بہن یعنی ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، مجھے پسند ہے۔ اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ مجھے…

