اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے۔ کیوں کہ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کو (بُرائی سے) محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور اگر کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو، تو اسے چاہیے کہ روزے رکھے۔ کیوں کہ روزہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: "اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے۔ کیوں کہ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کو (بُرائی سے) محفوظ…

