رسول اللہ ﷺ ایک دن مکہ اور مدینے کے درمیان ایک چشمے کے پاس، جسے خُم کہہ کر پکارا جاتا ہے، ہمیں خطبہ ارشاد کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور وعظ و نصیحت کیا۔
یزید بن حیان کہتے ہیں کہ میں، حُصین بن سَبرہ اور عمرو بن مسلم، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب ہم ان کے قریب بیٹھ گئے، تو حُصین نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: اے زید! آپ کو بڑی سعادتیں حاصل ہوئی ہیں۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، آپ ﷺ سے حدیث سنی ہے، آپ ﷺ کے ہمراہ…

