تم ميں سے ہر ايک شخص کا جہنم اورجنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع الغرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشريف لائے اور بيٹھ گئے۔ ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ ﷺ نے سرجھکایا اور چھڑی سے زمین کو کریدنا شروع کردیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم ميں سے ہر ايک شخص کا جہنم اورجنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ! کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسا نہ کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، اس لیے کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ہوگی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے... (اس کے بعد مکمل حديث ذکر کی)۔
Explanation
جب صحابہ نے نبی ﷺ سے يہ سنا تو عرض كيا کہ جب تقدير ميں يہ بات لکھ دی گئی ہے کہ بدبخت برا ہوگا اورنيک بخت اچھا ہوگا، نيز جو جنتی ہے جنت ميں جائے گا اور جہنمی جہنم ميں رہے گا، جب معاملہ ايسا ہےتو کيوں نہ ہم عمل کرنا چھوڑديں۔ اس ليے کہ کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہيں ہے، کیوں کہ ہر چيز لکھ دی گئی ہے اور مقدر کر دی گئی ہے۔
توآپ ﷺ نے انہيں جواب ديتے ہوئے ارشاد فرمايا: اعمال انجام ديتے رہو اور جو اللہ نے اچھا يا برا مقدر کرديا ہے اس پر اعتماد کرکے نہ بيٹھ جاؤ، بلکہ جس کا حکم ديا گيا ہے اس کے مطابق عمل کرو اور جس سے روکا گيا ہے اس سے بازرہو۔کیوں کہ جنت عمل ہی کے ذريعہ حاصل ہوگی اور جہنم ميں عمل ہی کے سبب جانا پڑےگا۔ چنانچہ صرف وہی شخص جہنم ميں جائے گا جو جہنميوں کا کام کرے گا اور صرف وہی شخص جنتی ہوگاجو جنتيوں والے اعمال انجام دے گا۔ ۔ہر شخصکو اس کی تقدير کے مطابق ہی اچھائی يا برائی کی توفيق ملتی ہے۔ پس جو نيک بختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ نيک بختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے اور جو بدبختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ بدبختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

