آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔ پھر فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا،اس وقت ہم چوزوں کی طرح لگ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نائی کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔
Explanation
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ یہ محمد، عبد اللہ اور عوف رضی اللہ عنہم تھے۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا جب کہ ہم ایسے لگ رہے تھے جیسے چوزے ہوں۔”فرخ“ پرندے کے بچہ کو کہتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اپنے والد کو کھو دینے پر طاری ہونے والے غم کی وجہ سے تھی۔
آپﷺ نے فرمایا: نائی کو بلاؤ۔ نائی کے آنے پر آپ ﷺ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔ یعنی نبی ﷺ نے نائی کو ان کے سر مونڈنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حکم کی تعمیل میں ان کے سر مونڈ دیے گئے۔ کیوں کہ نبی ﷺ نے دیکھا کہ ان کی ماں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اللہ کے راستے میں شہید ہو جانے والے اپنے شوہر کے غم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے بالوں کو سنوار نہیں پا رہی ہیں تو آپ ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں میل کچیل نہ گھر کر لے اور جوئیں نہ پڑ جائیں، لہٰذا اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اس میں فائدہ ومصلحت اور ان کی والدہ کے لیے راحت و سکون کا باعث ہے جو اپنے اوپر آپڑنے والی مصیبت کے سبب اپنے بچوں کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پارہی ہیں۔
نوٹ: یہ بات معلوم ہے کہ مصیبت کے وقت سر منڈانا جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے صالقہ، حالقہ اور شاقہ پر لعنت فرمائی“۔
حالقہ اس عورت کو کہتے ہیں جو مصیبت کے وقت اپنے بال منڈا دیتی ہے۔
شاقہ وہ عورت ہے جو کسی مصیبت کے آنے پر اپنے کپڑوں کو پھاڑتی ہے۔
اور صالقہ اس عورت کو کہا جاتا ہے جو بوقت مصیبت با آواز بلند بین کرتی ہے۔
لیکن جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بچوں کے بال منڈانے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی ماں ان کے سر کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پا رہی تھیں۔ چنانچہ نبی ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں جوئیں نہ پڑ جائیں اس لئے آپ ﷺ نے انہیں مونڈنے کا حکم دیا۔ یہ مونڈنا مصیبت سے متاثر ہو کر نہیں تھا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

