افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#8910[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔ پھر فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا،اس وقت ہم چوزوں کی طرح لگ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نائی کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔
02

Explanation

حدیث کا مفہوم: غزوہ موتہ میں جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو نبی ﷺ نے ان کے گھر والوں کو تین دن تک(سوگ کرنے) کی مہلت دی تا کہ ان کے دلوں کو اطمینان و تسلی ہو جائےاور ان کے دلوں میں موجود رنج و غم زائل ہوجائے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”آج کے بعد تم میرے بھائی پر مت رونا“۔ یعنی تین دن کے بعد آپ ﷺ نے انہیں رونے دھونے سے منع فرما دیا کیونکہ ابتدائی صدمہ اور رنج و غم کا وقت لمبا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ یہاں یہ ممانعت تنزیہی ہے کیونکہ تین دن کے بعد بھی رونا مباح ہے جب تک کہ اس کے ساتھ کسی حرام فعل کا ارتکاب نہ ہو۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ یہ محمد، عبد اللہ اور عوف رضی اللہ عنہم تھے۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا جب کہ ہم ایسے لگ رہے تھے جیسے چوزے ہوں۔”فرخ“ پرندے کے بچہ کو کہتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اپنے والد کو کھو دینے پر طاری ہونے والے غم کی وجہ سے تھی۔
آپﷺ نے فرمایا: نائی کو بلاؤ۔ نائی کے آنے پر آپ ﷺ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔ یعنی نبی ﷺ نے نائی کو ان کے سر مونڈنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حکم کی تعمیل میں ان کے سر مونڈ دیے گئے۔ کیوں کہ نبی ﷺ نے دیکھا کہ ان کی ماں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اللہ کے راستے میں شہید ہو جانے والے اپنے شوہر کے غم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے بالوں کو سنوار نہیں پا رہی ہیں تو آپ ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں میل کچیل نہ گھر کر لے اور جوئیں نہ پڑ جائیں، لہٰذا اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اس میں فائدہ ومصلحت اور ان کی والدہ کے لیے راحت و سکون کا باعث ہے جو اپنے اوپر آپڑنے والی مصیبت کے سبب اپنے بچوں کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پارہی ہیں۔
نوٹ: یہ بات معلوم ہے کہ مصیبت کے وقت سر منڈانا جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے صالقہ، حالقہ اور شاقہ پر لعنت فرمائی“۔
حالقہ اس عورت کو کہتے ہیں جو مصیبت کے وقت اپنے بال منڈا دیتی ہے۔
شاقہ وہ عورت ہے جو کسی مصیبت کے آنے پر اپنے کپڑوں کو پھاڑتی ہے۔
اور صالقہ اس عورت کو کہا جاتا ہے جو بوقت مصیبت با آواز بلند بین کرتی ہے۔
لیکن جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بچوں کے بال منڈانے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی ماں ان کے سر کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پا رہی تھیں۔ چنانچہ نبی ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں جوئیں نہ پڑ جائیں اس لئے آپ ﷺ نے انہیں مونڈنے کا حکم دیا۔ یہ مونڈنا مصیبت سے متاثر ہو کر نہیں تھا۔

Attribution

[اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...