”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ھریرہ عبد الرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ، اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو بہ کثرت سوال اور اپنے انبیا سے اختلاف نے ہلاک کردیا۔“
Explanation
Benefits
نہی کے ارتکاب کی ذرا بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ جب کہ امر کو استطاعت کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے، کیوں کہ آدمی ترک کی قدرت رکھتا ہے اور فعل کے لیے مامور بہ کام کو انجام دینے کی قدرت درکار ہوتی ہے۔
کثرت سوال کی ممانعت۔ علما نے سوال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم میں دین کے ضروری مسائل سے جڑے ہوئے ایسے سوالات آتے ہیں، جن کا مقصد سیکھنا ہو۔ اس طرح کا سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور صحابہ کے سوالات اسی نوع کے ہوا کرتے تھے۔ دوسری قسم میں ایسے سوالات آتے ہیں، جو تعنت اور تکلف کے طور پر کیے جائيں۔ اس طرح کا سوال کرنا منع ہے۔
اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
کسی چیز کی ممانعت میں اس کا قلیل اور کثیر دونوں شامل ہوتا ہے۔ کیوں اس سے (مکمل طور پر) اسی وقت بچا جاسکتا ہے، جب اس کے کم اور زیادہ مقدار دونوں سے بچا جائے۔ مثال کے طورپر ہمیں سود سے منع کیا گیا ہے، تو اس میں اس کی کم اور زیادہ مقدار دونوں شامل ہوگی۔
حرام تک پہنچانے والے اسباب سے بھی گریز کرنا چاہیے، اس لیے کہ اجتناب کے معنیٰ میں یہ بھی داخل ہے۔
کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ جب وہ رسولﷺکا حکم سنے تو کہے کہ کیا یہ واجب ہے یا مستحب؟ بلکہ اسے فورا حکم کی تعمیل کرنی چاہیے، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "فَأْتُوا مِنْهُ مَا استَطَعْتُمْ". یعنی جہاں تک ہو سکے، اس پر عمل کرو۔
زیادہ سوال کرنا ہلاکت کا سبب ہے، بالخصوص ایسی باتوں کے بارے میں جن کی معرفت حاصل کرنا ممکن نہ ہو، جیسے غیبی مسائل اور قیامت کے احوال۔ ان کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور تمھارا شمار غلو کرنے والوں میں ہوگا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

