HadeethEnc · 1.36.0
میں اسلام قبول کرنے کے مقصد سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں پانی میں بیری کے پتے ملا کر غسل کروں۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں اسلام قبول کرنے کے مقصد سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں پانی میں بیری کے پتے ملا کر غسل کروں۔
02
Explanation
قیس بن عاصم اسلام قبول کرنے کے ارادے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے، تو آپ نے ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا، کیوں کہ بیری کے پتوں کا استعمال صفائی کے لیے ہوتا ہے اور اس سے اچھی بو بھی آتی ہے۔
03
Benefits
کافر کا اسلام قبول کرتے وقت غسل کرنا مشروع ہے۔
اسلام ایک عالی مرتبت دین ہے، جو بیک وقت جسم اور روح دونوں کا خیال رکھتا ہے۔
پانی کے ساتھ پاک چیزوں کے ملنے سے پانی پاک کرنے کی صلاحیت نہیں کھوتا۔
صفائی کے لیے استعمال ہونے والی جدید چیزیں، جیسے صابن وغیرہ بیری کے پتوں کے قائم مقام سمجھی جائیں گی۔
اسلام ایک عالی مرتبت دین ہے، جو بیک وقت جسم اور روح دونوں کا خیال رکھتا ہے۔
پانی کے ساتھ پاک چیزوں کے ملنے سے پانی پاک کرنے کی صلاحیت نہیں کھوتا۔
صفائی کے لیے استعمال ہونے والی جدید چیزیں، جیسے صابن وغیرہ بیری کے پتوں کے قائم مقام سمجھی جائیں گی۔
Attribution
[رواه أبو داود والترمذي والنسائي]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

