HadeethEnc · 1.36.0
ساری تعریف اس اللہ کی، جس نے اس (ابلیس) کے مکر کو وسوسے کی طرف پھیر دیا۔“
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دل میں کچھ خیالات آتے ہیں۔ -وہ اشارے کنایے میں بات کر رہا تھا- ان خیالات کو زبان پر لانے کی بجائے کوئلہ ہو جانا اسے زیادہ پسند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ساری تعریف اس اللہ کی، جس نے اس (ابلیس) کے مکر کو وسوسے کی طرف پھیر دیا۔“
02
Explanation
ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں کوئی ایسا خیال آتا ہے، جسے زبان پر لانا اس قدر سنگین محسوس ہوتا ہے کہ اسے زبان پر لانے کی بجائے اسے راکھ ہوجانا زیادہ پسند ہوتا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہا اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی کہ اس نے شیطانی سازش کو محض وسوسہ میں تبدیل کر دیا۔
03
Benefits
اس حدیث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ شیطان مؤمنوں کی گھات میں رہتا ہے، تاکہ انہیں ایمان سے کفر کی طرف پھیر دے۔
اہل ایمان کے سامنے شیطان کی کمزوری کا بیان کہ اہل ایمان کو شیطان صرف وسوسہ میں ہی ڈال سکتا ہے۔
مومن کو چاہیے کہ شیطانی وسوسوں سے اعراض برتے اور انہیں اپنے ذہن ودل سے دور رکھے۔
پسندیدہ چیز پر اللہ اکبر کہنا، اس پر تعجب کا اظہار کرنا یا اسی قسم کا دیگر رد عمل ظاہر کرنا مشروع ہے۔
ہر مشکل امر سے متعلق عالم سے سوال کرنا مشروع ہے۔
اہل ایمان کے سامنے شیطان کی کمزوری کا بیان کہ اہل ایمان کو شیطان صرف وسوسہ میں ہی ڈال سکتا ہے۔
مومن کو چاہیے کہ شیطانی وسوسوں سے اعراض برتے اور انہیں اپنے ذہن ودل سے دور رکھے۔
پسندیدہ چیز پر اللہ اکبر کہنا، اس پر تعجب کا اظہار کرنا یا اسی قسم کا دیگر رد عمل ظاہر کرنا مشروع ہے۔
ہر مشکل امر سے متعلق عالم سے سوال کرنا مشروع ہے۔
Attribution
[رواه أبو داود والنسائي في الكبرى]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

