جسے اللہ عز وجل مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی بنائے اور وہ ان کی حاجت، ضرورت اور فقر سے نظر بچاکے رہے، تو اللہ اس کی ضرورت، حاجت اور فقر سے نظر بچا لے گا
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو مریم ازدی کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، تو انھوں نے کہا: اے ابو فلاں! وہ کون سی بات ہے، جس نے ہمیں آپ کی تشریف آوری کی سعادت عطا کی؟ -عرب کے لوگ کسی آنے والے کے استقبال میں یہ جملہ کہا کرتے تھے- میں نے کہا: میں نے ایک حدیث سن رکھی ہے، اسے آپ کو بتادینا چاہتا ہوں۔ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: "جسے اللہ عز و جل مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی بنائے اور وہ ان کی حاجت، ضرورت اور فقر سے نظر بچاکے رہے، تو اللہ اس کی ضرورت، حاجت اور فقر سے نظر بچا لے گا"۔ وہ کہتے ہیں : اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضرورت سننے کے لیے ایک آدمی متعین کر دیا۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

