ہمارے پاس موجود سونے کے ایک ٹکڑے کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ مجھے یہ برا لگا کہ میری توجہ اس کی طرف لگی رہے۔ چنانچہ میں نے اسے بانٹ دینے کا حکم دےدیا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مدینے میں نبی ﷺ کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ جلدی سے کھڑے ہوئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے اپنی کسی بیوی کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ آپ ﷺ کی جلدی کی وجہ سے لوگ گبھرا گئے۔ جب آپﷺ (حجرے سے) نکل کر ان کے پاس آئے اور دیکھا کہ وہ آپ ﷺ کی سے حیرت زدہ ہیں، تو فرمایا: ”ہمارے پاس موجود سونے کے ایک ٹکڑے کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ مجھے یہ برا لگا کہ میری توجہ اس کی طرف لگی رہے۔ چنانچہ میں نے اسے بانٹ دینے کا حکم دے دیا“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”میں گھر میں صدقے کے مال سے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا۔ مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ رات میں اسے اپنے پاس رکھوں“۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

