جس نے یہ کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ یہ کس نے کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بناکر تیر اندازی کی مشق کرنے والے پر لعنت کی ہے
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جو ایک پرندے کو نشانے کے طور پر رکھ کے اس پر تیر چلا رہے تھے۔ انھوں نے یہ طے کیا تھا کہ پرندے کے مالک کو نشانے سے چوکنے والے سارے تیر دے دیے جائیں گے۔ لیکن جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، تو ادھر ادھر بھاگ گئے۔ اس پر انھوں نے کہا: "جس نے یہ کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ یہ کس نے کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بناکر تیر اندازی کی مشق کرنے والے پر لعنت کی ہے"۔
تشریح
لعنت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پرندے کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ کوئی اس کے بازو پر تیر چلاتا ہے، کوئی سینے پر چلاتا ہے، کوئی پیٹھ پر چلاتا ہے اور کوئی سر پر چلاتا ہے۔ ایسے میں جب تک مر نہيں جاتا، سخت اذیت میں رہتا ہے۔ حالانکہ اسے ذبح کیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بنانے والے پر لعنت کی ہے۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

