کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں مالک بنایا ہے ،اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور تھکاتے ہو۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو جعفر عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کر لیا، پھر مجھ سے چپکے سے ایک راز کی بات کہی، جو میں کسی سے بیان نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ کو قضاے حاجت کے لیے چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں؛ یا تو کوئی اونچا مقام (ٹیلہ) یا کھجور کے درختوں کا جھنڈ یعنی کھجور کا باغ۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا۔ جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو بلبلایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے اوراس کے کوہان اور کانوں کے پیچھے ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا مارتے اور تھکاتے ہو“۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

