جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔
Explanation
اس کے بعد آپ نے بتایا کہ جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ جوا کھیلیں (جوا نام ہے دو یا دو سے زیادہ لوگوں کا اس شرط کے ساتھ مقابلے میں شریک ہونے کا کہ ان کے درمیان کوئی مال ہو اور مقابلہ جیتنے والا مال لے جائے گا۔ انسان اس میں یا تو جیتتا ہے یا پھر ہارتا ہے)، اس کے لیے کچھ نہ کچھ صدقہ کرنا مستحب ہے، تاکہ جوا کی دعوت دینے کی وجہ سے جو گناہ ہوا ہے، اس کا کفارہ ہو جائے۔
Benefits
غیراللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔ قسم خواہ بتوں جیسے لات و عزی کی کھائی جائے، یا امانت کی کھائی جائے، یا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی کھائی جائے یا کسی اور کی۔
خطابی کہتے ہیں: قسم بس عظیم معبود کی کھائی جانی چاہیے۔ اس لیے اگر کسی نے لات وغیرہ کی قسم کھا ئی، تو اس نے کفار کے جیسا کام کیا۔ اسى لئے اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ تدارک کے طور پر کلمۂ توحید پڑھ لے۔
غیراللہ کی قسم کھانے والے کو قسم کا کفارہ نہیں دینا ہے۔ اسے اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ گناہ اتنا بڑا ہے کہ اسے توبہ کے علاوہ کوئی چيز نہیں مٹا سکتی۔
قمار کی ساری صورتیں اور شکلیں حرام ہیں۔ قمار وہی میسر (جوا) ہے، جسے اللہ نے حرام کیا ہے اور شراب اور بتوں کے ساتھ یکجا بیان کیا ہے۔
گناہ ہو جانے کی صورت میں اس سے واپس لوٹنا (یعنى توبہ کرنا) واجب ہے۔
جو شخص گناہ میں پڑ جائے اسے چاہیے کہ اس کے بعد نیکی کرے؛ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

