افسوس! تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی!
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
ابو بكره رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے اس کی تعریف کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”افسوس! تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی!“ آپ ﷺ نے ایسا کئی مرتبہ کہا۔ (پھر فرمایا): ”اگر تم میں سے کسی کو کسی کی تعریف کرنا ہی ہو تو وہ کہے کہ میرے خیال میں وہ ایسے اور ایسے ہے، اگر وہ اسے ایسا سمجھتا ہو، باقی اس کا حساب لینے والا تو اللہ ہے۔ کسی کے بارے میں قطعیت کے ساتھ یہ نہ کہے کہ وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہے“۔
تشریح
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

