”عورتوں کے پاس جانے سے اجتناب کرو“۔ ایک انصاری شخص نے سوال کیا : یا رسول اللہ! شوہر کے قریبی رشتہ دار (بھائی، چچا زاد وغیرہ) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”شوہر کا قریبی رشتہ دار تو موت ہے“۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”عورتوں کے پاس جانے سے اجتناب کرو“۔ ایک انصاری شخص نے سوال کیا : یا رسول اللہ! شوہر کے قریبی رشتہ دار (بھائی، چچا زاد وغیرہ) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”شوہر کا قریبی رشتہ دار تو موت ہے“۔
Explanation
یہ سن کر ایک انصاری شخص نے عرض کیا : شوہر کے رشتے داروں، جیسے شوہر کے بھائی، بھتیجے، چچا اور چچیرے بھائی وغیرہ، جن سے شادی شدہ نہ ہونے کی صورت میں اس کى شادی جائز ہوتی ہے، کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا: ان سے اسی طرح خبردار رہو، جس طرح موت سے خبردار رہتے ہو۔ کیوں کہ شوہر کے رشتے داروں کے ساتھ خلوت دینی فتنے اور ہلاکت کا سبب ہے۔ باپ اور بیٹوں کو چھوڑ کر شوہر کے دیگر رشتے داروں سے گھلنے ملنے کی ممانعت اجنبیوں کے بالمقابل تو بدرجۂ اولی ہونی چاہیے۔ کیوں کہ ان سے خلوت کے مواقع زیادہ رہتے ہيں اور برائی وفتنے کے امکانات بھی کہیں زیادہ رہتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کیوں کہ ان کى پہونچ عورت تک بآسانی ہوجاتی ہے اور ان کے لئے عورت کے ساتھ تنہائى
کے مواقع پالینا بھی معمولى بات ہوتی ہے اور ایسا ہونے پر اعتراض کی گنجائش بھی کم ہوتى ہے۔ عورت کا شوہر کے قریبی رشتہ داروں سے مکمل چھپ کر اور الگ تھلگ رہنا تقریب ناممکن ہوتا ہے۔ اس معامعلے میں عام طور سے تساہل بھی پایا جاتا ہے۔ کئی بار بھابھی کے ساتھ تنہائی ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ برائی اور بگاڑ کے معاملے میں موت جیسی ہے۔ اس کے برخلاف اجنبی شخص سے تو اس سے احتیاط برتی ہی جاتی ہے۔
Benefits
یہ ایک عام حکم ہے، جس میں شوہر کے بھائی اور ایسے رشتے دار بھی داخل ہیں، جو محرم نہيں ہيں۔ لیکن ممانعت اسی وقت ہے، جب خلوت پائی جائے۔
انسان کو ایسی جگہوں سے بچنا چاہیے، جہاں پھسلنے کا امکان ہو۔
نووی کہتے ہیں: اہل لغت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ "احماء" سے مراد شوہر کے رشتے دار، جیسے اس کا والد، چچا، بھائی، بھتیجا اور چچیرے بھائی وغیرہ ہیں۔ "الأَخْتَانَ" سے مراد بیوی کے رشتے دار ہیں۔ جب کہ "الأصْهارَ" کے اندر دونوں طرف کے رشتے دار آ جاتے ہيں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے شوہر کے رشتے دار کی تشبیہ موت سے دی ہے۔ اس سلسلے میں ابن حجر عسقلانی لکھتے ہيں : عرب ناپسندیدہ چیز کو موت کہتے ہيں۔ وجہ شبہ یہ ہے کہ اگر گناہ ہو جائے، تو دین کی موت ہے، اگر گناہ کے ساتھ ساتھ رجم واجب ہو گیا، تو دونوں کی موت ہے اور اگر گناہ ہو جائے اور شوہر غیرت میں آکر طلاق دے دے، تو عورت کی ہلاکت ہے کہ اسے اپنے شوہر سے جدا ہونا پڑا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

