تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے، حالانکہ (یہ نہیں سوچتا کہ) شاید وہ اسی دن کے آخری حصہ میں اس سے ہم بستر بھی ہو۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک دن دوران خطبہ (صالح علیہ السلام کی) اونٹنی اور اس کی کوچیں کاٹنے والے کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت {إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ} تلاوت کی (اور فرمایا:) "اس کام کے لیے ایک سخت دل، طاقت ور، قبیلے کا قوی ومضبوط شخص اٹھا"۔ پھرآپ نےعورتوں کے متعلق نصیحت فرمائی۔ فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے، جب کہ اس بات کا امکان رہتا ہے کہ وہ دن کے آخری حصے میں (یعنی رات میں) اس کے پہلو میں سوئے بھی“۔ پھر ہوا خارج ہوجانےکی وجہ سے ہنسنے پر نصیحت کی۔ فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس کام پر کیوں ہنستا ہے، جو وہ خود بھی کرتاہے“۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

