افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#5654[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کے لئے چار ہزار وظیفہ مقرر کیا۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کے لئے چار ہزار وظیفہ مقرر کیا اور اپنے بیٹے کے لئے ساڑھے تین ہزار مقرر کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ وہ بھی تو مہاجرین میں سے ہیں، ان کا وظیفہ آپ نے کم کیوں کردیا؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ: اس کے ساتھ اس کے باپ نے ہجرت کی تھی۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہو سکتا جس نے بذات خود ہجرت کی ہو۔
02

Explanation

عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کو 4000 وظیفہ دیا۔ آپ کے بیٹے (عبداللہ) بھی مہاجرین ہی میں سے تھے لیکن آپ نے انہیں 3500 وظیفہ دیا کیوں کہ ان کے بیٹے نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی جب کہ وہ نابالغ تھے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ اپنے بیٹے کو بالغ مہاجرین کے ساتھ ملائیں۔ چنانچہ آپ نے ان کا وظیفہ ان مہاجرین سے کم رکھا جنہوں نے بذات خود ہجرت کی تھی۔امت کے مال کے معاملے میں اس دنیا نے نبی ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کی طرح کا کوئی زاہد و متقی حکمران نہیں دیکھا۔ ہر اس شخص پر ایسا ہی طرز عمل واجب ہے جس کے پاس مسلمانوں کے معاملات میں سے کسی معاملے کی ذمہ داری آئے کہ نہ تو وہ کسی رشتہ دارکی اس سے تعلقِ قرابت کی بنا پر طرف داری کرے اور نہ کسی امیر کی اس کی امارت کی وجہ سے اور نہ کسی غریب کی اس کی غربت کی وجہ سے طرفداری کرے بلکہ اسے چاہیے کہ ہر ایک کو اس کے مقام پر رکھے۔ ایسا کرنا عین تقوی و عدل ہے۔

Attribution

[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...