اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے بلندی کے برابر ہو جائيں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہيں ہے۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر گناہ لے کر اس حال میں آئے کہ تونے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس زمین کے برابر بخشش لے کر آؤں گا۔"
Explanation
اے ابن آدم! اگر تو موت کے بعد میرے پاس اس حال میں آئے کہ تیرے گناہوں اور نافرمانیوں سے روئے زمین بھری ہوئی ہو اور تو موحد بن کر فوت ہوا ہو اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں ان گناہوں اور نافرمانیوں کے مقابلے میں روئے زمین بھر مغفرت سے کام لوں گا۔ کیوں کہ میری بخشش کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ میں شرک کے علاوہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔
Benefits
توحید کی فضیلت اور یہ کہ اللہ توحید کی راہ پر چلنے والوں کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
شرک کی خطرناکی اور یہ کہ اللہ شرک کرنے والوں کو معاف نہيں کرے گا۔
ابن رجب کہتے ہيں: اس حدیث میں گناہوں کی مغفرت کے تین اسباب بیان ہوئے ہيں: 1- امید کے ساتھ دعا۔ 2۔ بخشش مانگنا اور توبہ کرنا۔ 3- توحید پر کاربند رہ کر مرنا۔
یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ہے، جن کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حدیث جس کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی جانب سے ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندر قرآن کے وہ خصائص نہيں پائے جاتے، جن کی بنیاد پر اسے ایک الگ امتیاز حاصل ہے۔ مثلا اس کی تلاوت کے ذریعہ اللہ کى عبادت کرنا، اس کى تلاوت کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج پیش کیا جانا وغیرہ۔
گناہوں کی تین قسمیں ہیں: 1- اللہ کا شریک ٹھہرانا۔ اسے اللہ معاف نہيں کرے گا۔ اللہ عز و جل نے فرمایا: (یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔) 2- بندہ کوئی ایسا گناہ کرے، جس کا تعلق اس سے اور اس کے رب سے ہو۔ اللہ چاہے تو اس طرح کے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔ 3- ایسے گناہ، جن میں اللہ کچھ نہيں چھوڑتا۔ یعنی بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا۔ یہاں قصاص ضروری ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

