جب رمضان کا آخری عشرہ آتا، تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو اس کے لیے جگاتے اور پوری کوشش وتن دہی کے ساتھ عبادت کرتے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: جب رمضان کا آخری عشرہ آتا، تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو اس کے لیے جگاتے اور پوری کوشش وتن دہی کے ساتھ عبادت کرتے۔
Explanation
Benefits
نووی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں زیادہ عبادت کرنا اور ان کى راتوں میں جاگ کر عبادت کرنا مستحب ہے۔
بندے کو چاہیے کہ اپنے اہل خانہ کے تئیں فکر مند رہے، انہیں عبادت کا حکم دے اور ان کی پوری نگہ داشت کرے۔
نیکی کے کام کرنے کے لیے مضبوط عزم و ارادے، صبر اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔
نووی کہتے ہيں: اس حدیث کے الفاظ "شدّ المِئزر" کے معنی کے بارے میں علما کے درمیان اختلاف ہے۔ کسی نے کہا: اس سے مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا عام معمول سے بڑھ کر عبادت کرنا ہے۔ اس طرح ان الفاظ کے معنی ہوئے: عبادت کے لیے کمر کس لینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے : "شَدَدْتُ لهذا الأمر مِئزري"۔ یعنی اس کام کے لیے میں نے کمر کس لیا اور خود کو یک سو کرلیا۔ جب کہ کسی نے کہا ہے: یہ الفاظ کنایہ ہیں عبادتوں میں مشغول ہونے کی خاطر عورتوں سے علاحدگی اختیار کرلینے سے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

