شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔"
Explanation
Benefits
اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس رات کو پوشیدہ رکھا جائے، تاکہ اس کی طلب میں لوگ خوب عبادت کیا کریں اور انھیں بڑا اجر وثواب مل سکے۔
شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس بات کی امید زیادہ ہے کہ آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہو۔
شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہے۔ اسی رات میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن اتارا اور اسے برکت، قدر ومنزلت اور اس میں کیے گئے عمل صالح کے اثرات کے اعتبار سے ایک ہزار راتوں سے بہتر قرار دیا۔
اس رات کو لیلۃ القدر (دال کے سکون کے ساتھ) یا تو اس کے فضل وشرف کی بنا پر کہا گیا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: "فلان عظيم القدر" یعنی فلاں بڑی قدر ومنزلت والا انسان ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کی اضافت کسی چیز کی اضافت اس کی صفت کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ رات بڑی قدر ومنزلت اور مقام ومرتبہ والی رات ہے، "ہم نے اسے (قرآن کو) ایک مبارک رات میں اتارا"۔ [سورہ دخان : 3]۔ یا پھر قدر لفظ تقدیر سے ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کى اضافت قدر کى طرف ظرف کی اضافت اس کے مشتملات کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ ایک ایسی رات ہے، جس میں سال بھر میں رونما ہونے والے تمام امور کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، "اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے" [سورہ دخان : 4]۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

