بے شک اللہ تعالی نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ دو باتیں ہیں، جن کو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھا۔ آپ نے فرمایا : "بے شک اللہ تعالی نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص (جانور ذبح کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ) اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو آرام پہنچائے۔"
تشریح
کسی کو بطور قصاص قتل کرتے وقت احسان یہ ہے کہ قتل کا سب سے آسان، سب سے ہلکا اور سب سے تیز طریقہ اختیار کیا جائے۔
جب کہ ذبح کرتے وقت احسان یہ ہے کہ جانور پر رحم کرتے ہوئے ہتھیار کو تیز کر لیا جائے، ہتھیار کو ذبیحے کی نظروں کے سامنے تیز نہ کیا جائے اور ایک جانور کے سامنے دوسرا جانور ذبح نہ کیا جائے۔
فوائد
قتل اور ذبح کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان دونوں کاموں کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔
اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے اور اس کے اندر ہر طرح کی بھلائی موجود ہے، جس کی ایک مثال جانور کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ بھی ہے۔
قتل کے بعد انسان کے جسمانی اعضا کو کاٹنا (مثلہ) منع ہے۔
ہر وہ کام حرام ہے، جس میں جانور کو عذاب دینے کا پہلو پایا جائے۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

