اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔
تشریح
فوائد
بہتر یہ ہے کہ قربانی کا جانور اسی طرح کا ہو، جس طرح کا جانور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ذبح کیا۔ کیوں کہ یہ دیکھنے میں اچھا ہوتا ہے، اس میں چربی ہوا کرتی ہے اور اس کا گوشت بڑا لذیذ ہوا کرتا ہے۔
نووی کہتے ہيں: اس حدیث کی روشنی میں اپنی قربانی کا جانور کسی اور سے ذبح کروانے کے بجائے خود اپنے ہی ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے۔ البتہ کوئی عذر ہو، تو بات الگ ہے۔ لیکن اس وقت بھی خود موجود رہنا چاہیے۔ لیکن بلا اختلاف کسی دوسرے مسلمان سے ذبح کرانا بھی جائز ہے۔
ابن حجر کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بسم اللہ کہنے کے ساتھ ساتھ اللہ اکبر کہنا اور جانور کی گردن کے دائيں حصے پر اپنا پاؤں رکھنا مستحب ہے۔ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جانور کو بائيں پہلو کے بل لٹاکر اس کے دائيں پہلو پر پاؤں رکھ دیا جائے گا، تاکہ ذبح کرنے والے کو دائيں ہاتھ سے چھری پکڑنے اور بائيں ہاتھ سے گردن کو پکڑے رہنے میں آسانی ہو۔
سینگ والے جانور کی قربانی مستحب ہے۔ بغیر سینگ والے جانور کی بھی قربانی جائز ہے۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

