افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#3917[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے وہ روزے دار شب بیدار جو انتہائی خشوع کے ساتھ اللہ کی آیات کو پڑھتا ہے اور روزہ و نماز میں کبھی بھی کمزوری نہیں دکھاتا یہاں تک کہ وہ مجاہد واپس لوٹ آئے۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل ہے جو جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تم اسے نہیں کر سکتے۔ لوگوں نے دو یا تین بار آپ ﷺ سے پھر یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ تم اسے نہیں کر سکتے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے وہ روزہ دار شب بیدار جو انتہائی خشوع کے ساتھ اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور روزہ و نماز میں کبھی بھی کمزوری نہیں دکھاتا یہاں تک کہ وہ مجاہد واپس لوٹ آئے۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض گزارش کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیں جو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تو کوئی ایسا عمل نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تم اپنی جائے نماز پر چلے جاؤ اور پھر تم مسلسل بلا وقفہ نماز پڑھو اور مسلسل روزہ رکھو۔؟ اس نے جواب دیا: ايسا كرنے کی کس میں استطاعت ہے؟
02

Explanation

اس حدیث کی دونوں روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی ﷺ سے ان نیکی اور بھلائی کے کاموں کے بارے میں دریافت کیا جو اجر و ثواب کے لحاظ سے جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔ یعنی وہ عمل جو جہاد کے مساوی ہے تم میں اس کے کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اس پر صحابہ نے آپﷺ سے دو یا تین بار یہی سوال کیا اور آپ یہی فرماتے رہے کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے سامنے اس عمل کی وضاحت فرمائی جسے وہ نہیں کر سکتے تھے اور وہ یہ تھا کہ بغیر کسی وقفے اور انقطاع کے پابندی کے ساتھ مسلسل روزہ رکھنا، نماز پڑھنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عمل انسان کی وسعت سے باہر ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے آغاز ہی میں ان سے فرمایا کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتائیں جو قدر و منزلت اور اپنے اجر و ثواب کے اعتبار سے جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہو۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ میرے نزیک تو ایسا کوئی نہیں ہے۔ یعنی میرے علم میں تو کوئی ایسا عمل نہیں جو جہاد کی طرح کا ہو یا اس کا ہم پلہ ہو۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک صبح یا ایک شام کے لیے نکلنا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تم اپنی جائے نماز پرچلے جاؤ اور پھر ہمیشہ عبادت میں لگے رہو۔ بغیر کسی انقطاع کے نماز پڑھو اورمسلسل روزہ رکھو۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہو تو صرف یہی ایک عمل ہے جو جہاد کے مساوی ہو سکتا ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ اس کی کون استطاعت رکھتا ہے!۔ یعنی کون ہے جو بغیر انقطاع کے مسلسل نماز پڑھ سکتا ہے اور بنا افطار (بریک) کیے روزہ رکھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام انسانی قدرت سے بالا تر ہے۔

Attribution

[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...