اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لی ہے؛ اگر اس کی وفات ہوگئی، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اگر وہ واپس آیا، تو ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس ہوگا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی ہے (اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ نے اس شخص کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے)، جو اس کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلے۔ (اللہ فرماتا ہے:) اگر اس کا یہ نکلنا محض میری راہ میں جہاد کے لیے اور مجھ پر ایمان اور میرے انبیا کی تصدیق کے جذبے سے ہو، تو میں اسے اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ یا تو اسے جنت میں داخل کردوں گا، یا ثواب یا غنیمت کے ساتھ اس کے گھر میں واپس پہنچا دوں گا، جس سے وہ نکلا تھا“۔
مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال -اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے- قیام کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے؛ اس کی وفات ہوگئی، تو جنت میں داخل کرے گا۔ ورنہ صحیح سالم ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا“۔
Explanation
رہی دوسری روایت، جسے صاحبِ 'عمدہ' نے مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، حالاں کہ وہ متفق علیہ ہے، اس میں بیان کیا گيا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت یعنی ایسا عمل جو جہاد کے قائم مقام ہو، انسانی طاقت سے باہر کی چیز ہے؛ کیوں کہ وہ عمل لگاتار نماز، روزہ اور قیام اللیل میں لگے رہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

