میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا : میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ تو تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہوجاؤ۔ اس نے کہا : آپ بیٹھیے، آپ تو اصحاب محمد ﷺ کا تلچھٹ ہو، انھوں نے کہا: کیا اصحاب رسول ﷺ میں بھی تلچھٹ ہوتا ہے؟ بے شک تلچھٹ تو ان کے بعد یا ان کے علاوہ دوسروں میں ہوگا۔
Explanation
”فَإِيَّاك أَن تَكُون مِنهُم“ یہ عائذ رضی اللہ عنہ کا جملہ ہے، جو انھوں نے ابنِ زیاد سے نصیحت کے طور پر کہا۔
ابنِ زیاد نے جواب میں کہا: آپ تو ان کا تلچھٹ ہو یعنی تم صاحب فضل، ذی علم اور اہلِ مرتبہ صحابہ میں سے نہیں ہو، بلکہ کم مرتبہ صحابہ میں سے ہو۔ ”النُّخَالَة“ آٹے کے بھوسے سے استعارہ ہے، جو اس کے چھلکے ہوتے ہیں، النخالة، الحقالة اور الحثالة ایک ہی معنیٰ میں آتے ہیں۔
جلیل القدر صحابی نے جواب میں کہا: ”وهل كَانَت لَهُم نُخَالَة؟ إِنَّمَا كَانَت النُخَالَة بَعدَهُم وَفِي غَيرِهِم“ یہ صحابی کا بڑا عمدہ، سلیس، فصیح اور سچا کلام ہے، جسے ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سارے کے سارے تمام لوگوں میں چنندہ، امت کے سردار اور بعد والوں سے افضل ہیں۔ سب کے سب عادل اور اسوہ ہیں۔ ان میں تلچھٹ ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ملاوٹ تو بعد والوں کی طرف سے یا خود بعد والوں میں ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

