جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی، وہ ویسے ہی ہو گیا جیسے اس نے کہا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نےرسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین پر ہونے کی جھوٹی قسم قصداً کھائے، وہ ویسا ہی ہو جائے گا، جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ جو شخص خود کو دھار دار چیز سے ذبح کر لے، اسے جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب ہوتا رہے گا اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”مسلمان پر لعنت بھیجنا ،اس کا خون کرنے کے برابر ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے:”جس نے (مال میں) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس ( کے مال) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا“۔
Explanation
جس نے تلوار یا چاقو یا پستول کی گولی جیسے دیگر کسی قتل کے اوزار سے خود کو قتل کرلیا، اس کو اسی اوزار سے قیامت تک عذاب دیا جائے گا۔
جو شخص کوئی ایسی نذر مانے، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، جیسے کوئی یہ نذر مانے کہ وہ فلاں غلام کو آزاد کردے گا یا فلاں کے مال میں سے اتنا صدقہ و خیرات کرے گا، تو اس کی نذر بے کار و کالعدم ہوگی؛ کیوں کہ وہ نذر ،صحیح موقع و محل میں وقوع پذیر ہی نہیں ہوئی۔
جو شخص کسی مومن پر لعنت کرے، تو گویا اس نے اس کو قتل کردیا؛ کیوں کہ لعنت کرنے والا اور قاتل دونوں، اللہ تعالیٰ کی قابل حرمت مخلوق کی پامالی کے مرتکب ہونے میں برابر کے شریک ہیں، اسی بنا پر دونوں کے حق میں ایک ہی طرح کا گناہ لکھا جائے گا اور دونوں ایک ہی طرح کے عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔
جو شخص اپنی بڑائی کے اظہار میں اور مال، علم، حسب و نسب،فضل و شرف، منصب و جاہ اوردیگر امور کی کثرت کے بارے میں ایسےجھوٹے دعوے کرے،جو حقیقت سے پرے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر چیز میں ذلت وخواری اور پستی کو زیادہ کردے گا؛ کیوں کہ اس شخص نے اپنی شخصیت کو ایسے امور کے ذریعے اونچاو بلند کرنا چاہا، جن کا اس میں وجود ہی نہیں۔ لہٰذا اس کو اسی قبیل سے تعلق رکھنے والی سزا دی جائے گی۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

