اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے منت ماننے سے منع فرمایا اور کہا : "منت کوئی خیر نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے بس کنجوس کا مال نکالا جاتا ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے منت ماننے سے منع فرمایا اور کہا : "منت کوئی خیر نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے بس کنجوس کا مال نکالا جاتا ہے۔"
Explanation
Benefits
منت ماننے سے ممانعت کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ منت کوئی خیر نہيں لاتی۔ یعنی اللہ کے کسی فیصلے کو بدلتی نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ منت ماننے والا یہ نہ سمجھے کہ اس کی مراد منت کی وجہ سے ہی پوری ہوئی بلکہ اللہ تعالی اس سے بے نیاز ہے۔
قرطبی کہتے ہيں : اس ممانعت کا محل یہ ہے کہ مثلا کوئی شخص کہے : اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دے دی، تو میں اتنا صدقہ کروں گا۔ کراہت کی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے مذکورہ عبادت کی انجام دہی کو مذکورہ غرض کے پورا ہونے پر موقوف قرار دے دیا، تو واضح ہو گیا کہ اس عبادت کی انجام دہی میں اللہ کی خالص رضا جوئی کارفرما نہيں ہوگی، بلکہ معاوضہ کی روش اپنائی جائے گی۔ یہ بات اس سے اور واضح ہو جاتی ہے کہ اگر اللہ نے اس کے مریض کو شفا نہيں دی، تو وہ شفا کے ساتھ معلق صدقہ نہيں کرے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہی حالت بخیل کی ہوا کرتی ہے۔ کیوں کہ وہ اپنا مال کسی ایسی چیز کے عوض میں ہی نکالتا ہے، جو جلد حاصل ہو اوراکثر یہی ہوتا ہے کہ عوض نکالی ہوئی چيز سے زیادہ ہو۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

