افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#10988[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

کسی نبی کی روح اس وقت تک نکالی نہیں گئی، جب تک اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا گیا اور پھر دنیا یا جنت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ چنانچہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ بے ہوش ہو گئے دراں حال کہ آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ پھر جب ہوش میں آئے تو اپنی نگاہ گھر کی چھت کی طرف اٹھائی اور پھر فرمایا : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى" یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی رفاقت چاہیے

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

متن حدیث

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب صحت مند تھے، تو فرمایا کرتے تھے : "کسی نبی کی روح اس وقت تک نکالی نہیں گئی، جب تک اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا گیا اور پھر دنیا یا جنت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار نہیں دیا گیا"۔ چنانچہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ بے ہوش ہو گئے دراں حال کہ آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ پھر جب ہوش میں آئے تو اپنی نگاہ گھر کی چھت کی طرف اٹھائی اور پھر فرمایا : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى" یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی رفاقت چاہیے۔ لہذا میں نے کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ میں سمجھ گئی کہ یہاں وہی حدیث عمل کا روپ لے رہی ہے، جو آپ نے ہمیں تندرستی کی حالت میں بتائی تھی۔ وہ کہتی ہیں: اس طرح آپ کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى"۔
02

تشریح

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہونے سے پہلے تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے : کوئی بھی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوا، جب تک اللہ نے اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا اور اس کے بعد یہ اختیار نہیں دے دیا کہ وہ چاہے تو دنیا ہی میں رہے اور چاہے تو جنت کے اندر اپنی جگہ لے لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب آپ مرض الموت کے آخری لمحوں میں تھے، تو آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ اتنے میں بے ہوش ہوگ‏ئے۔ جب ہوش میں آئے، تو گھر کی چھت کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور اس کے بعد فرمایا : "اللهم الرفيق الأعلى"۔ یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی جماعت کا ساتھ چاہیے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب اللہ نے آپ کو دنیا یا آخرت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار دے دیا ہے اور ہمیں چننے کی بجائے آپ یقینا آخرت ہی کو چنیں گے۔ میں سمجھ گئی کہ اسی اختیار دینے کا ذکر اس حدیث میں تھا، جو آپ تندرستی کی حالت میں ہم سے بیان کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے : "اللهم الرفيق الأعلى"۔

Attribution

[متفق علیہ]

زمرے

شیئر کریں

حدیث شیئر کریں

Sharing options

3مشاہدات0کارڈز0شیئرز
شیئر کریں

← موسوعہ پر واپس جائیں
Shopping Basket

Loading...