ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ ﷺ سے نماز کے بارے میں دریافت کیا گیا (کہ اسے کون پڑھائے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابو بکر بہت رقیق القلب آدمی ہیں۔ وہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو انہیں رونا آ جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ وہ نماز پڑھائیں“۔
عائشہ سے مروی ایک اورحدیث میں ہے کہ: میں نے کہا: ابو بكر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے ان کی آواز لوگوں کو سنائی نہیں دے گی۔
Explanation
مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے بس یہ بات ناپسند تھی کہ کہیں یہ نہ ہو کہ جو شخص سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی جگہ کھڑا ہو اس سے لوگ بد شگونی لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دو یا تین بار آپ ﷺ سےاس موضوع پر بات کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم تو ان عورتوں کی طرح ہو جن سے یوسف علیہ السلام کو واسطہ پڑا تھا۔‘‘ مراد یہ ہے کہ تم ان عورتوں کی طرح ہو جن سے یوسف علیہ السلام کو سامنا تھا کہ جو دل میں ہے اس کے برخلاف ظاہر کر رہی ہو۔ یہ بات اگرچہ جمع کے صیغہ سے کی گئی تاہم اس سے مراد صرف عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں جیسا کہ یوسف والی عورتوں سے مراد صرف زلیخا ہے۔ حافظ ابن حجر نے ایسے ہی لکھا ہے۔ زلیخا اس وقت عزیز مصر کی بیوی تھی۔
ان دونوں کے مابین وجہ مشابہت یہ ہے کہ زلیخا نے عورتوں کو بلایا اور مہمان نوازی کی شکل میں ان کی عزت افزائی کی حالانکہ اس سے اس کی مراد کچھ اورتھی اور وہ یہ کہ وہ یوسف علیہ السلام کے حسن کو ملاحظہ کر سکیں اور یوں اسے اس کی محبت میں معذور گردانیں۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے اظہار اسی بات کا کیا کہ اپنے ابا سے امامت دور رکھنے سے ان کا منشا یہ ہے کہ مقتدی ان کے رونے کی وجہ سے ان کی آواز نہیں سن سکیں گے جب کہ ان کی مراد دراصل یہ تھی کہیں لوگ ان سے بد شگونی نہ لیں جیسا کہ انہوں نے حدیث کی بعض دوسری روایات میں اس کی صراحت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: ”مجھے آپ ﷺ سے بات کرنے پر جس شے نے آمادہ کیا وہ یہ تھی کہ میرا دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا تھا کہ لوگ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کا آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑا ہونا پسند کر لیں گے“۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

