Йокудан тору әдәпләре
Дәдҗәл фетнәсе
Дәдҗәл фетнәсе
Намаз_вакытында_булган_вәсвәсәләрне_җиңү
Намаз_вакытында_булган_вәсвәсәләрне_җиңү
Peyghemberlere iman …
Peyghemberlere iman
d_template
7/22/2021 21:36
ذی الحجہ کے دس دن
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے اطاعت کے ایسے موسم بنا دے جن میں نیک اعمال میں کئی گنا اضافہ ہو, تاکہ وہ اس طرح مقابلہ کریں کہ , وہ اپنے رب کے قریب آجائیں۔
ان بابرکت موسموں میں ذی الحجہ کے دس دن بھی شامل ہیں۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اپنا فضل اورانکی عزت افزائی کی ہے۔ اس میں آٹھ ذی الحجۃ کا دن، عرفات کا دن اور قربانی کا دن ہے۔
اور اس کی اہمیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھا کر کہتا ہے ( اور صبح اور دس راتیں۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ یہ دنیا کے بہترین دس دن ہیں۔ میری مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں .
ابو عثمان النہدی کہتے ہیں کہ وہ (یعنی سلف) تین عشروں کی عظمت کے قائل تھے . رمضان کے آخری عشرے، ذی الحجہ کے پہلے دس دن اور محرم کے پہلے دس دن ۔
ان دنوں کا استقبال کیسے کریں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو ان دنوں سے زیادہ نیکی کا کوئی دن محبوب نہیں ہے۔ میرا مطلب یہ دس دن ہے. انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ کیا اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں ہے سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کیساتھ نکلا اور پھر دونوں چیزیں قربان کر دیں اور واپس نہ لوٹا ۔
نیک عمل عبادت کی مختلف شکلوں کا احاطہ کرتا ہے۔ روزے، نماز، حج، ذکر، اللہ تعالیٰ تکبیر، تلاوت قرآن، نیکی کے راستے خرچ کرنا وغیرہ۔
ان ایام میں جس چیز کی تاکید ہوتی ہے وہ اس کے دسویں دن کے سوا روزہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے بعض نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو ذی الحجہ کے روزہ رکھتے تھے۔
خاص طور پر عرفات کے دن جس کا روزہ دو سال کا کفارہ ہوتا ہے ۔
اور ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تکبیرات بھی ہیں ۔
قال تعالى ( وَيَذْكُرُوا اسْـمَ اللّـٰهِ فِىٓ اَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُـمْ مِّنْ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ( سورة الحج 28 فرمان باری ہے (تاکہ جو چارپائے اللہ نے انہیں دیے ہیں ان پر مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد (قربانی) کریں )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا ذکر فرمایا ہے جو دس دن ہیں۔
ان میں سے ایک حج ہے جو دس دنوں میں کیا جانے والا سب سے افضل کام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج مقبول کا جنت کے سوا کوئی اجر نہیں۔ جس میں قربانی بھی ہے .
اور جو شخص قربانی کرنا چاہتا ہے وہ ذوالحجہ کے مہینے میں داخل ہونے سے اس وقت تک بال اور ناخن کاٹنے سے پرہیز کرے جب تک کہ وہ اپنی قربانی کو ذبح نہ کر لے۔
Qusulun edebleri …
Qusulun edebleri
SALATUL EID
Kabilang sa layunin ng kautusan sa Islam ay pagkakaisa ng puso’t damdamin at kapatiran ng mga Muslim. At ipinag-uutos sa Islam ang pagtitipon sa karamihan ng pagsamba, isa dito ay ang Salatul Eid, ang Propeta Muhammad ﷺ ay ipinag-uutos sa lahat ng tao na sila’y lumabas at magtipon para sa pagdarasal na ito, kahit pa man ang mga kababaihan na mayroong buwanang dalaw, “upang kanilang matunghayan ang kabutihan at pag-anyaya sa mga Muslim”.
At maaaring maligo, magpaganda, at mag-ayos para sa pagdiriwang na ito, at pinapahintulutan sa araw ng Eidul-Fitr na kumain ng datiles bago magtungo sa lugar dasalan, kung papaano na ang Propeta Muhammad ﷺ ay hindi pumupunta sa lugar dasalan hangga’t siya ay hindi kumakain ng datiles.
Magsisimula ang oras ng Salatul-Eid paglagpas ng sampung minuto pagkatapos ng pagsikat ng araw, hanggang sa paglihis ng araw pagkatapos nitong gumitna sa langit. Pinapahintulutan na magsagawa ng pagdarasal sa bukas na kapatagan, at maaari din na isagawa sa mga Masjid o bahay dasalan kung walang kakayahang isagawa ito sa bukas na kapatagan, at hindi na kinakailangan ang Adhan at Iqaamah o panawagan para sa Salah.
Ang Propeta Muhammad ﷺ ay lumalabas patungo sa kapatagan tuwing Fitr at Adhhaa, at kanyang uunahin na isagawa ang Salatul-Eid; at ito’y dalawang Rak’ah; siya ay magsasagawa ng anim na takbeer pagkatapos ng Takbeeratul-Ihram sa unang tayo o Rak’ah, at siya ay magbabasa ng pambungad na panalangin at magbabasa ng talata mula sa Quran.
At sa pangalawang tayo (magsasabi ng “Allahu- Akbar habang lumilipat ng posisyon patayo), magsasagawa ng limang Takbeer, itataas ang dalawang kamay sa tuwing Takbeer (Allahu-Akbar), maaari niyang sabihin ang Allahu-Akbar, Subhanallah, Alhamdulillah sa pagitan ng bawa’t Takbeer.
Kabilang sa Sunnah na kanyang basahin ang dalawang Surah, Suratul-A’la at Al-Ghashiyah, o Surah Qaaf o Al-Qamar. At magbibigay ng sermon para sa mga tao pagkatapos ng dasal, katulad ng sermon tuwing biyernes, at maaaring dumalo ang mga tao at makinig sa sermon na ito.
Kabilang rin sa Sunnah ang pagpunta nang maaga sa lugar dasalan ng naglalakad, at siya ay babalik sa ibang daan maliban sa kanyang pinanggalingan. Kapag ang tao ay kanyang nakaligtaan ang Salatul-Eid ay kanya itong isagawa katulad ng pamamaraan na ating nabanggit.
Hindi makukumpleto ang araw ng Eid, maliban sa ating pagsunod sa Allah ﷻ, at pagtugon sa kung ano ang Kanyang ipinag-uutos, “Kung sino ang sumunod sa Allah, at sa Kanyang sugo, katotohanan sila’y magkakamit ng dakilang tagumpay”.
Ziyarətin ədəbləri
Ziyarətin ədəbləri
چھینک کے دینی آداب
چھینکنے کے احكام
چھینک:کسی عارضے کی وجہ سے ناک سے ہوا کے خارج ہونے کی آواز کو چھینک کہا جاتا ہے۔
اس کے بہت سے فوائد ہیں جو جدید طب سے ثابت ہیں۔
چھینک کے شرعی احکام اور آداب ہیں جوکہ ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے۔
نبی کریمﷺ کی سنت سے ثابت ہے کہ چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہا جائے۔ الحمدللہ کہنے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے پر بڑے فضل کی طرف اشارہ ہے کہ اس نے اسے بڑے نقصان سے بچا لیا۔
پھر اس بندے کو یہ ادب سکھلایا گیاہے کہ چھینک کے بعد الحمدللہ کہے اور دعائے خیر کرے چنانچہ :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: الحمد للہ۔
اور اس کا بھائی یا دوست اس سے کہے: یرحمک اللہ یعنی : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔
چھینکنے والا جواب میں کہے : یھدیکم اللہ ویصلح بالکم یعنی : اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے اور آپ کے حالات درست فرمادے۔
یہ مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب کوئی مسلمان بھائی چھینکنے کے بعد الحمدللہ کہے تو اس کا مسلمان بھائی جواب میں یرحمک اللہ کہے۔
جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو سننے والے مسلمان پر حق ہے کہ جواب میں یرحمک اللہ کہے۔ یعنی اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے۔
رحم کی مذکورہ دعا کا مفہوم یہ ہے کہ یہ چھینک کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری حفاظت کے لیے بنایا ہے۔
چھینکنے والے کے لیے باعثِ اجر ہے کہ اس کو جواب میں یھدیکم اللہ ویصلح بالکم کہے یعنی : اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے اور آپ کے حالات درست کردے۔
جو چھینکنے کے بعد الحمدللہ نہ کہے اسے یرحمک اللہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ جو الحمدللہ کہنا بھول جائے تو موجود افراد اسے یاد دلاسکتے ہیں کہ الحمدللہ کہے
جس کو بار بار چھینک آئے اور تین سے زیادہ مرتبہ وہ چھینکے تو اس کے بعد اسے جواب میں یرحمک اللہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ کہا جائے:
اللہ تعالی ٰآپ کی حفاظت فرمائے۔ کیونکہ آپ کو زکام ہے۔
خطیب کو چھینک آئے تو :
خطبہ جمعہ کے دوران اگر خطیب کو چھنیک آئے اور جہرً ا الحمدللہ کہے اور خاموش ہوجائے تو اس کو جواب میں یرحمک اللہ کہنے میں کوئی حرج نہیں البتہ اگر وہ خاموش نہ ہو تو اسے جواب میں یرحمک اللہ نہ کہاجائے کیونکہ خطبہ جاری ہے (خطبےکے دوران خاموش رہنے کا حکم ہے۔
اگر کسی غیر مسلم کو چھینک آئے :
اگر کسی غیرمسلم کو چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو اسے جواب میں ھداک اللہ یا عافاک اللہ کہا جائے یعنی : اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے یا اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے۔ یہودی رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں چھینکتے ہوئے یہ امید رکھتے تھے کہ آپ ﷺ ان کے لیے یرحمک اللہ کہیں گے ، مگر آپ ﷺ یھدیکم اللہ و یصلح بالکم کہتے یعنی : اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے اور آپ کے حالات درست فرمادے۔
بیت الخلاء میں موجود شخص کے لیے یہ ناپسندیدہ ہے کہ وہ اس دوران چھینکنے والے کو دعا دے ۔ نیز چھینکنے والا بھی اس دوران الحمدللہ جہراً نہ کہے بلکہ دل میں کہہ لے۔ اور بہتر یہ ہےکہ وہ چھینک کی آواز کو دھیمی رکھے اور اپنا چہرہ ڈھانپ لے تاکہ اس کے منہ یا ناک میں کوئی ایسی چیز نظر نہ آئے جس سے اس کے ساتھی کو تکلیف پہنچے۔ اور اپنی گردن کو دائیں یا بائیں نہ گھمائے تاکہ اسے بھی کوئی تکلیف نہ پہنچے۔










