”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!)تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا
ابو نجیح عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک موثر وعظ فرمایا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں بھر آئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ وعظ تو گویا کسی الوداع کہنے والے کے وعظ کی طرح ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیں۔ رسو…

