جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مالِ غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو مال غنیمت نہیں ملا بلکہ اس جماعت و لشکر کے لوگ زخمی ہوئے یا شہید کر دیے گیے تو ان کا اجر پورا باقی رہا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مال غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت ی…

