آدمی سوئے گا اور امانت اس کے دل سے قبض کر لی (اٹھالی) جائے گی، چنانچہ اس کا اثر ایک معمولی نشان کی طرح باقی رہ جائے گا۔ پھر وہ سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی، تو اس کا نشان آبلے کی مانند باقی رہ جائے گا۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے دو باتیں بیان فرمائیں: ان میں سے ایک کو میں نے دیکھ لیا ہے اور دوسری کا میں انتظار کر رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے ہم سے بیان کیا کہ: امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ (گہرائی) میں اتری (یعنی اسے فطرت کا حصہ بنایا) پھر…

