افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#8934[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

اے لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ اللہ ہی کو زیادہ علم ہے کیوں کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: اے لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ ’اللہُ أعْلَمْ‘ (اللہ ہی کو زیادہ علم ہے) کیوں کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے بھی کہہ دیا تھا کہ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ ”کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں“۔
02

Explanation

حدیث کا مفہوم: جب کسی سے کسی ایسی بات کے بارے میں پوچھا جائے جس کا اسے علم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اسے نہ چھپائے۔ تاہم اگر اس سے کسی ایسی شے کے بارے میں پوچھ لیا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو پھریوں کہے کہ : اللہ اعلم (اللہ بہتر جانتا ہے) اور کھینچ تان کر جواب دینے کی کوشش نہ کرے۔
”کیونکہ انسان جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں اس کا یہ کہنا کہ: اللہ بہتر جانتا ہے بھی علم ہی ہے“ کیوں کہ جس شخص کو علم نہ ہو اور وہ کہہ دے کہ وہ نہیں جانتا تو درحقیقت وہی عالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے اپنی قدر و منزلت کا علم ہے اور اسے پتہ ہے کہ اس بات سے وہ ناواقف ہے۔ چنانچہ جس بات کو وہ نہ جانتا ہوتا اس کے بارے میں وہ کہہ دیتا ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔
صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں ”فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ: اللهُ أَعْلَمُ“ کہ تم میں سے اگر کوئی شخص کوئی بات نہ جانتا ہو تو اس کا اللہ اعلم کہنا اس کے علم کے لیے زیادہ بہتر و درست اور اس کے لئے زیادہ نفع بخش ہے۔
پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کے اس قول سے استدلال کیا کہ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ یعنی میں جو وحی لے کر آیا ہوں اس پر میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں بلکہ میں تو تمہاری خیر کی طرف راہنمائی کررہا ہوں اور تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں۔
﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ یعنی میں تمہیں مشقت میں مبتلا کرنے والا یا بغیر علم کے بات کرنے والا نہیں ہوں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ انسان کے لیے صرف اسی صورت میں فتوی دینا جائز ہے جس میں فتوی دینے کی اس میں صلاحیت ہو۔ اگر اللہ تعالی کا ارادہ یہ ہوا کہ وہ لوگوں کو فتوے دے اور ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرے تو ایسا ہو جائے گا اور اگر اللہ کا یہ ارادہ نہ ہوا تو فتوی دینے کی جراءت کرنے سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ ایسا کرنا الٹا اس کے لئے دنیا و آخرت میں وبال بن جائے گا۔

Attribution

[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...